![]() |
| ادبی خط |
"ایک ادبی خط "
ایک ادبی محبوب کے نام"
میرے حرفوں کے مرکز،
تم شاید نہیں جانتے کہ تمہیں سوچنا بھی ایک ادبی عمل بن گیا ہے۔
جب میں تمہیں یاد کرتی ہوں تو قلم خود بخود بانو قدسیہ کی طرح نرمی اختیار کر لیتا ہے —
جیسے کسی کہانی میں محبت نصیحت نہیں، بلکہ عبادت بن جائے۔
تمہارا نام لکھتے ہوئے میرا دل چاہتا ہے کہ لفظوں کے نیچے چھوٹی سی دعا لکھ دوں،
"یہ شخص سلامت رہے، ورنہ میری نثر ادھوری ہو جائے گی۔"
تمہارے جملے کبھی کبھی اشفاق احمد کے کرداروں جیسے ہوتے ہیں —
خاموش، مگر مکمل؛
بات مختصر مگر مفہوم ایسا کہ پوری زندگی سمجھنے میں لگ جائے۔
اور جب تم اپنی بات پر ڈٹ جاتے ہو،
تو تم میں منٹو بولتا ہے —
وہی سچ، جو سب جانتے ہیں مگر کہنے سے ڈرتے ہیں۔
پھر اچانک تم چپ ہو جاتے ہو،
اور تمہاری وہ چپ ممتاز مفتی کی "علی پور کا ایلی" بن جاتی ہے —
بےترتیب، الجھی ہوئی، مگر کتنی سچی۔
میں تمہارے سکوت کو پڑھتی ہوں،
اور حیران ہوتی ہوں کہ خاموشی میں بھی اتنا مفہوم چھپا ہو سکتا ہے۔
کبھی کبھی تمہاری باتوں میں فیض اتر آتا ہے —
جیسے ہر حرف میں محبت کی سیاست چلتی ہو،
جیسے تمہیں دنیا بدلنے کا شوق نہیں، بس دل بدلنے کا ہنر آتا ہو۔
اور میں… میں تمہارے سامنے خود کو قرة العین حیدر کی کسی ہیروئن سا محسوس کرتی ہوں —
تہذیب سے بھری، نازک، مگر وقت کے بہاؤ میں ٹھہری ہوئی۔
تمہارے ساتھ بات کرنا ایسا لگتا ہے جیسے تاریخ، محبت اور لفظ ایک ساتھ چلنے لگے ہوں۔
تم میرے لیے صرف ایک شخص نہیں،
تم ایک پورا ادب ہو۔
تمہارے لہجے میں فکشن کی روانی ہے،
اور تمہارے وجود میں وہ نثر،
جو کبھی ختم نہیں ہوتی — بس پڑھنے والے بدلتے رہتے ہیں۔
تم میرےمحبوب نہیں،
تم میری تحریر کا مرکزی کردار ہو،
اور میں اب تمہارے بغیر کچھ نہیں لکھ سکتی —
کیونکہ تم بنے ہو میرے جملوں کا استعارہ۔
محبت کے ساتھ،
تمہاری، جو لفظوں سے تمہیں چُھوتی ہے🖤۔
✍️تحریر ساریہ چوہدری

