Dard-e-hijjran||درد ہجراں

Dard-e-hijjran||درد ہجراں

0

 




                           "درد ہجراں"

                                                                           ساریہ چوہدری


                                                                                                                           1قسط نمبر                                                                                                                   



 ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻮﺣﮧ ﮔﺮﯼ، ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺳﮯ !!_____

ﺍﮎ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ______ ﻧﻤﺪﯾﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ

ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺗﻠﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﺮﻣﺮﺍﮨﭧ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ _ ﻓﺎﻧﯽ ﮐﺎ

ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ____ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺳﺎ، ﻗﺼﯿﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ

ﮔﺮ ﻟﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﻢ ﺗﻮ !!

ﺷﻮﺧﺊ _ ﺩﻭ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮ _____ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ

ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ

ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ______ ﺭﻧجیدﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ

ﮬﻢ ﺍﮔﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ !!_____

ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻟﮑﮭﺘﮯ

ﺍﺳﮑﮯ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﻮﺭﯾﺪﮦ ﮐﮩﺘﮯ

ﺍﻧﮑﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﯿﻠﯿﮟ !!____

ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﮐﻮ _____ ﺁﺑﺪﯾﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ

ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﯽ ﮬﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ !!_______

ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻮﺣﮧ ﮔﺮﯼ ______ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺳﮯ


وہ بڑے مگن انداز میں را کنگ چئیر پہ جھولتی کچھ گنگنا رہی تھی. کانوں میں ہیڈ فون تھے یقننا وہ کچھ سن رہی تبھی کوئی آہٹ بھی اسے سنائی نہیں دی تھی

 نوری کئی آواز دے ڈالیں مگر مجال ہے جو اسکے کان پر جوں تک رینگی ہو. نوری نے آگے بڑھ کے سیل فون سے بلیو ٹو تھ ڈسکنکٹ کیا تھا کمرے میں عابدہ پروین کی آوز گونجنے لگی تھی 

مرغان قفس کو پھولوں نے یہ شاد کہلا بھیجا ہے

آجاؤ جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

مگر وہ اب بھی اپنی دھن میں تھی ۔ نوری نے شرمندگی سے پیچھے کھڑے مہمانوں کو دیکھا تھا اور آگے بڑھ کر اسکے کان میں چیچنی تھی .. ۔

پارس۔۔۔۔۔

پارس ہڑ بڑا کے سیدھی ہوئی تھی ۔


پیچھے کھڑے مہمانوں کے چہروں پر مسکراہٹ ر ینگ گئی تھی ۔۔ اسنے سوالیہ نظروں سے نوری کو دیکھا تھا ۔ .. نوری اسکی لال انگارہ آنکھیں دیکھ کے پریشان ہوگئی تھی .. اسکا بدلتا رنگ دیکھ کے پارس فورا خود کونارمل کیا تھا وہ جانتی تھی زرا بھی چہرے پر اداس کی لکیر ہوئی تو نوری سب کے سامنے شروع ہو جاناہے ..

یہ کچھ مہمان آئے ھیں پارس نوری نے پیچھے مہمانوں کی جانب اشارہ کیا تھا.. وہ ہنوز سیل فون دیکھ رہی تھی

اسنے نظر اٹھا کر انکو دیکھنے کی زخمت گوارا نہیں کی تھی۔

 کیا خدمت کر سکتی ہوں؟؟؟؟ اسنے سیل میں سر دیئے بات کی تھی نوری کوتا ؤ آنے لگا تھا

 پارس نوری دانت پر دانت جما کے بولی تھی ۔

 نوری کو ہائپر دیکھ کے وہ سیل پاکٹ میں ڈال چکی تھی انہوں نے پارس نامی لڑکی کو غور سے دیکھا تھا بلیک جینز پہ بلیک لانگ کوٹ پہنے, بلیک لانگ شوز, گلے میں بلیک ہی مفلر باندھے, کوٹ کا بیلٹ نکال کے ماتھے پہ باندھ رکھا تھا دھلا دھلایا فریش چہرہ نہ میک اپ نہ کریم ,سفید سرخ چمکتی رنگت .. یہ پارس حسن تھی


اس سے پہلے کہ پارس جواب دیتی لیلی پھولی سانسوں سے اندر داخل ہوئی تھی ۔ پارس زبان لڑکھڑارہی تھی خوف تھا جو لفظ ادا نہیں ہورہے تھے ۔


ريليكس ريليكس پارس نے اسے بازو کے حصار میں لئیے حوصلہ دیا تھا

باہر سیٹھ تیمور آیا ہے ,

تحفظ کا احساس ھوتے ہی اسنے خود کو نارمل کرتے بتایا تھا

 جہاں پارس چو نکی سیٹھ کی آمد سے وہی پیچھے کھڑے چھ سات لڑکے لڑکیوں کے رنگ اڑ گئے تھے آنکھوں میں خوف ہلکورے لینے لگا تھا۔ نوری بھی ساکت تھی .. پارس نے گہری سانس کھینچی تھی۔ اسنے بیلٹ اتار کے کوٹ سے لٹکا یا تھا اور لیلی اور نور کوتسلی دیتی انکے بیچ سے نکلتی لاؤنج کی جانب بڑھ گئی تھی ... .. نوران سب کو تسلی دینے لگی تھی .. وہ جیسے ہی لاؤنج میں آئی تھی  

سیٹھ تیمور گردن اکڑائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا مونچھوں کو بل دے رہا تھا, جیسے کلف لگے شلوار سوٹ میں ملبوس تھا ویسے ہی اس کی گردن میں کلف لگی دکھ رہی تھی ... پارس کو دیکھتے ہی وہ کھڑا ھو چکا تھا۔


اسلام علیکم !!!! 

جی وعلیکم اسلام ۔۔۔۔پارس سلام کا جواب دیتی آ کر سائیڈ والے صوفے پہ بیٹھ گئی تھی

 جی فرمائیے کیا خدمت کر سکتی ہوں؟؟؟؟

 پارس بنا لگی لپٹی رکھنے کے سیدھی بات کی طرف آئی تھی

 دیکھیں پارس آپ اس علاقے کی بڑی معزز اور قابل قدر شحصیت ہیں۔ بے شک عمر میں آپ بہت چھوٹی ہیں مگر اتنی سی عمر میں اسقدر وقار ذہانت سمجھداری اور اک معیار بنانا بہت ہی مشکل کام ہے بلکہ ناممکن ہے۔اور یقین جانیں میں خود آ پکی بہت عزت کرتا ھوں کیونکہ آپ بہت سٹریٹ فارورڈ اور صاف دل اور انصاف ... اتنی لمبی تمہید کیوں باندھ رہے ھیں ٹو دی پوائنٹ بات کریں۔ پارس سیٹھ کی بات کاٹ کر بولی تھی ۔


ہممممم سیدھی بات اتنی سی ہے آپکی لاڈلی نور ... میرے مہمانوں کو میرے خلاف بھڑ کا کے زبر دستی ساتھ لے آئی ہے میری گزارش ہے میرے مہمانوں کو میرے ساتھ بھیج دیں سیٹھ تیمور نے کب سے زہن میں ترتیب دی بات دہرائی تھی پارس کو اب نور کے ساتھ آئے مہمانوں کی سمجھ آ رھی تھی ..


پارس اٹھ کے اندر کی طرف مڑی تھی کہ سامنے نور کھڑی تھی پارس جھوٹ بول رہے ھیں یہ ... میں کوئی نہیں انکے خلاف بھڑ کا یا , مجھے تو علم بھی نہیں تھا وہ کدھر سے آرہے ہیں میں تو بیلا کی طرف سے آرہی تھی شام ہو چکی تھی یہ لوگ بھاگے جارہے تھے وہ نیچے جنگلی کھائی کی طرف اگر تھوڑا اور آگے بڑھ جاتے تو پلٹ کے کبھی نہ آتے میں بس راستہ بتایا تھا انہوں نے مدد مانگ لی تو میں ادھر لے آئی .. ... نوراک ہی سانس میں بولتی چلی گئی تھی۔ پارس کو پتہ تھا نور جھوٹ نہیں بولتی کم از کم پارس سے تو ہرگز نہیں .. سوخاموشی سے سر ہلا دیا تھا سن لیا سیٹھ صاحب؟؟؟ پارس هنوز بسنجیدگی سے بولی .. یہ کھڑے ہیں آپکے مہمان ... پارس کے اشارہ کرنے پر نور نے دیکھا انکی روح پرواز کرنے لگی تھی آنکھوں میں موت کی پر چھائی صاف نظر آ رہی تھی . نور شرمندہ ہی ہوگئی۔ 

پوچھ لیں خود جانا چاہتے ہیں آپکے ساتھ؟ 

پارس کے اگلے الفاظ پر سب کار کا سانس بحال ہوا تھا نور کو بھی یہی لگا تھا پارس انکے ساتھ بھیج دے گی۔ کیوں شہز ادو کیا خیال ہے پھر ؟؟؟ چلیں ؟؟؟ ہم خود . سیٹھ تیمور بذات خود چل کر آپکو لینے آیا ہے۔

سیٹھ مکاری سے مسکراتے بولا تھا. 


ہم نہیں جائیں گے تم بہت بڑے فراڈ ہو ہمیں پھنسانا چاہتے ہو نہیں جائیں گے ہم اک لڑکی بڑی دلیری سے بولی تھی بالحاظ کے باقی لب سے کھڑے تھے سن لیا سیٹھ صاحب؟ یا باقیوں سے بھی باری باری گواہی لیں گے؟ پارس بنا کوئی تاثر دیے بولی سیٹھ نہیں.


دانت پیس کے رہ گیا تھا۔ پارس آپ بیچ میں مت آئیں۔ ہم بات کرلیں گے ان سے سیٹھ ضبط کرتے بولا تھا


سیٹھ صاحب بول دیا نہ انہوں نے کہ وہ نہیں جانا چاہتے تو ؟؟؟ تشریف لے جائیں پارس نے باہر کا راستہ دیکھایا تھا پارس آپ بہت غلط کر رہی ھیں بہت مہنگا پڑے گا یہ کھیل آپکو سیٹھ دھمکی کے.. اندازمیں بولا۔


۔ انف سیٹھ صاحب انف .... یہ میرا گھر ہے اور آپ میرے گھرمیں کھڑے ہو کر مجھےدھمکی دے رہے ۔۔چلیں جائیں جب تک وہ خود نہیں چاہیں گے آپ کچھ نہیں کر سکتے نہ لے جاسکتے ہیں. پارس بھی غصے سے بولی تھی

 پارس آپ ۔۔۔۔۔۔سیٹھ انگلی اٹھا کے بولا ..


سیٹھ تیمور انگلی نیچے میں اپنی طرف اٹھنے والی انگلی تو ڑ دیتی ہوں اور آنکھ نکال دیتی ہوں ۔ جاؤ یہاں سے اور جو کرنا ہے کر لو ... پارس تپ کے بو لی تھی .. سب سمیت نو ر بھی سانس رو کے کھڑی تھی کہ بیٹھے بٹھائے کہاں پھنسا دیا پارس کو مصیبت انکی گلے اسکے پڑ گئی.. سیٹھ ہاتھ کامکا بنا کے دوسری ہتھیلی پہ مارتا پاؤں پٹختا نکل گیا تھا۔ پارس بنا


ان سب کو دیکھے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی .. اور وہ سکھ کا سانس لیتے دلوں میں ندامت لیے نور کے ساتھ صوفے پہ آ بیٹھے تھے۔

                                             ☆. ☆. ☆. ☆


بھائی صاحب ایسا مت کریں ہم کہاں جائیں گے؟ ہمارا تو کوئی بھی نہیں جسکے پاس جاسکیں .. دیکھیں ہم آپ کے گھر نوکر بن کر رہ لیں گے خدا کا واسطہ ہمیں اس گھر سے مت نکالیں .. وہ عورت ہاتھ جوڑے گڑ گڑاتی واسطے دے رہی تھی .. سامنے فرعون بنے کھڑے دونوں میاں بیوی چپ سے ہو گئے تھے شاید کچھ سوچنے لگے تھے۔ پھر بیوی کچھ سوچتی سر اثبات میں ہلانے لگی تھی ۔


ٹھیک ہے آجاؤ اجازت دے کر گویا احسان عظیم کیا گیا تھا۔ عورت بھی بچی کا ہاتھ تھامے اندر آ گئی تھی ... آج کے بعد تم دونوں وہاں سٹور میں رہوگی اور کام سارے کرنے ہونگے ذرا بھی کوتا ہی مجھے برداشت نہیں سمجھی؟؟؟


اور ہاں.. جاتے جاتے وہ پلٹی تھی ہر کام وقت پر ھو

ورنہ یہاں سے جانے کا بندوبست کر کے رکھنا تنفر سے بولتی وہ اندر چلی گئی تھی حکم سنادیا گیا تھا جواب سننا ضروری نہیں سمجھا گیا تھاوہ عورت دوپٹے سے آنسو پونچھتی بچی کو لئے سٹور میں آگئی تھی گرداور جالوں سے اٹا سٹور روم کباڑ سے بھرا ھوا تھا ۔ عورت نے بچی کو سائیڈ پر بٹھایا اور کمر کس لی تھی .. شام ہونے سے پہلے وہ سٹور کو کافی حد تک صاف کر چکی تھی دو چار پائیاں بچھا کے اپنا سامان رکھ چکی تھی .. بچی ماں کومسلسل کام کرتے دیکھ کر چپ تھی حلانکہ بھوک سے بے ہوش ہونے کو تھی ۔


جب برداشت جواب دے گئی تو اماں پاس آکھڑی ھوئی تھی کیا بات ہے میری جان؟؟؟ اسے چپ پاس کھڑا دیکھ کر اماں نے گود میں بٹھا لیا تھا مما بہت زور کی بھوک لگی ہے۔ وہ آہستہ سے بولی تھی ..


اچھا .... وہ اسے ساتھ لے کے کچن میں آگئی تھی .. اسنے فریج میں سے سالن نکالا تھا اور آٹا نکال کے رکھا تھا روٹی بنانے کے لیے وہی عورت پھر سے آپکی تھی .... اور سالن چھین لیا تھا آٹا بھی اٹھا کے فریج میں رکھ دیا تھا

یہ تم نوابزادیوں کے لیے نہیں رکھا صبح صبح بچوں نے اسکول جانا ہے اس وقت سالن تمہارا باپ بنائے گا کیا؟ اتنا فالتو نہیں ہے کہ یوں تم لوگ ہڑپ کر جاؤ فرعونیت انتہا پہ تھی یہ لو... اسنے کئی دنوں کی باسی سوکھی روٹی آگے رکھی تھی ادھر سے اچار لے کر کھالو آنکھوں میں حقارت لیے باہر کی جانب بڑھی تھی پھر رک گئی تھی اور ہاں آئندہ بھی احتیاط کرنا محنت سے کما کے لاتے ھیں درختوں سے نہیں توڑ کے لاتے... عورت آنسو پی کے رہ گئی تھی۔ اسنے وہی روٹی پانی میں بھگو کے رکھی تھی تھوڑی نرم ھوئی تو اچار کے ساتھ بچی کو بھی کھلائی تھی اور خود بھی چند لقمے زہر مار کئیے تھے جب وہ بچی کو لیے کچن سے نکلی تھی وہ عورت لاؤنج میں بیٹھی کسی سے مخاطب تھی۔ دیکھنا تم کیسا بدلہ لیتی اپنی توہین کا اک اک بدلہ لوں گی یہی زلالت کی چکی میں پیس کے ماروں گی وہ روتی ہوئی اللہ سے مد مانگتی سٹور میں آگئی تھی ... مما کیا اب میرے کھلونے اور بکس اور میرا کمر ابھی مجھے نہیں ملنا ؟ ؟ ؟ بچی نے حسرت سے پوچھا تھا اماں جواب دینے کی بجائے اسے ساتھ لگائے رونے لگی تھی ۔ چھ سالہ معصوم بچی حیرت سے اماں کا منہ تکنے لگی تھی ..

                                   ☆☆☆


وہ سب لاؤنج میں بیٹھے باتوں میں مگن تھے نور کچن میں تھی رضیہ بوا اور امینہ خالہ کے ساتھ کچھ پکانے میں مصروف انکی باتوں اور جنسی کو بریک لگا تھا جب دولڑ کے لاؤنج میں داخل ہوئے تھے ... اک تو اچھا خاصہ خوش شکل تھا خوبصورت ہیئر کٹ جینز شرٹ میں ملبوس کانوں میں بالی پہنے گلے میں جھولتی زنجیر اور بازو پہ بینڈ ز چڑھائے. پنٹ کے بیلٹ سے لٹکتا پعمل .... وہ کوئی بد معاش لگ رہا تھا ہیر و نما بد معاش دوسرا اسکی نسبت خاصا ڈیسنٹ دیکھ رہا تھا اسکے بھی بیلٹ سے پسٹل لٹک رہا تھا مگر اسکی شکل دیکھ کر سب کی سیٹی گم ھو چکی تھی ۔ کیونکہ جتنا ویل ڈریسڈ اور ڈیسیٹ دیکھائی دے رہا تھا شکل اتنی ہی ڈراؤنی تھی سیاہ رنگ اور اس پر کرخت تاثرات ... نجانے کیوں انکی سانسیں تک سینے میں اٹک گئی تھیں ، ان میں سے اک لڑکی اٹھ کر کچن میں بھاگی تھی ۔۔ فورا باہر آ گئی تھی ۔ ہمیر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر بیٹھا تھا نور کو دیکھتے ہی آنکھ ماری تھی۔ نور گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی۔ جبکہ وہ مسکرانے لگا تھا، دوسرا کھڑا ادھر ادھر نظر دوڑا کے آگے بڑھا تھا جسکی نظر کو تلاش تھی وہ کہیں نہیں تھی .. ٹیپو بھائی پارس ڈھونڈ رہی تھی آپکو کوئی ضروری کام ہے اسکو آپ سے پیچھے سے نور کی آواز سنائی دی تھی وہ رک کر اسے دیکھنے لگا نور سمجھ گئی تھی کیا پو چھرہا ہے۔ ابھی تو آفس ہیں آجائیں تو مل لینا .. نور بتا کر پائی تھی سمیر بھی کھڑا ھو گیا تھا دو کپ چائے نور چھت پہ بھیج دو آگے بڑھ کے نور کے کان میں سرگوشی کی تھی وہ اچانک اسکے قریب آنے پہ اچھل کر دور ہوئی تھی اور مکن میں بھاگی۔ سمیر بھی ٹیپو کی طرح ان سب کو اگنور کرتا آگے بڑھ گیا تھا جب کہ وہ سب اک دوجے کو دیکھ کے رہ گئے تھے ۔ آنا پورے تفتے بعد پارس گھر واپس آئی تھی پورا ہفتہ اپنے آفس کے کاموں میں ابھی تھی اور آج جیسے بھی گھر آئی سمیر اور ٹیپو نے گھیر لیا تھا یہ کیا ہے مہینہ ہو گیا انکو یہاں بیٹھے اور ابھی تک کوئی حل نہیں نکلا انکے مسئلوں کا ؟؟؟ پلیز انکو کہیں فورا کچھ کریں اور جائیں یہاں۔ سمیر بیزار بیٹھا تھا۔ ہاں میں بھی سوچ رہی ہوں کہ چکر کیا ہے نور منہ اٹھا کے لے آئی ہے اور پتہ ہے ہی نہیں کہ انکو تکلیف کیا ہے اور وہ بھی کیسے آرام سے ڈھیرا ڈالے بیٹھے ہیں پارس بھی سوچنے لگی تھی ۔ آپ بات کرلیں ورنہ میں بات کی تو آپکو ہی اعتراض ہوگا .. سمیر نجانے کیوں ان سے خار کھائے بیٹھا تھا نہیں نہیں تم کچھ مت کہنا میں خود دیکھتی ہوں۔ پارس نے کچھ سوچ کر اسے منع کیا تھاوہ سر ہلانے لگا تھا پارس نے کب سے چپ بیٹھے ٹیپو کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکی نظر پڑتے ہی نظر جھکا لی تھی ۔ آپکو کوئی کام تھا مجھ سے؟؟؟ نور نے ہفتہ پہلے بتایا تھا آپکو کوئی کام تھا ۔آپ نے پوچھا تھا ۔۔ میرا... اسنے نظر جھکائے پوچھا تھا 

ہاں۔۔۔۔۔۔وہ تب تم لوگوں کی شکایت ملی تھی ریسٹورنٹ میں پیٹا تم دونوں نے کسی کو انہوں نے پولیس کو شکایت لگائی ایس پی گیا تھا۔پارس کوبھی یاد آیا تو بتانے لگی حلانکہ وہ جانتی تھی وہ دونوں بنا قصور ہاتھ نہیں اٹھاتے .. ضرور کچھ بات ھو گی ایس پی سے تو بات کر لی تھی مگران سے تب سے ملاقات ہی نہیں ہو پائی تھی ...


خیر چھوڑو وہ مجھے علم ہو گیا تھا جو بھی مسئلہ تھا . اس وقت اک اور مسئلہ آ گیا ہے مجھے سمجھ بالکل نہیں آ رہی کہ یہ کون ہے اور کس کی بات ہو رہی ہے ... پارس خودا لجھی ہوئی تھی وہ دونوں بھی الجھ کر دیکھنے لگے تھے ۔ پارس ان کو تفصیل بتانے لگی تھی ۔


میں پہلے ہی کہہ رہا تھا مفت میں مصیبت گلے میں ڈال لی نکال باہر کریں ساری بات سن کر سمیر غصے سے بھر گیا تھا۔ ٹیپو نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکو ٹھنڈا رہنے کی تاکید کی تھی مجھے کچھ اور ہی معاملہ لگ رہا ہے. تم اتنی جلدی ہائپر نہ ہوا کرو وہ دونوں چونک کئے تھے۔


کیسا معاملہ؟ پارس کو بھی کچھ کچھ شک تھا۔ 

فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا .. کوئی اک پروف مل جائے پھر ٹیپونے پر سوچ انداز میں کہا ..

 پھر بھی کس پر شک ہے اور کیا معاملہ لگ رہا ہے تمہیں؟؟؟ سمیر با ضد تھا۔ یار دھمکی ان لوگوں کو واپس لینے کی ہونی چاہیے تھی وہ الٹا ہم سے پنگے بازی کر رہے ہیں کیوں؟؟؟ ٹیپو نے الجھن ظاہر کی تھی

 اففف۔۔۔۔۔۔ چھوڑو سب فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی کیا ہورہا ہے ۔ اس فون کی ابھی کوئی بات کلئیر نہیں .. اسے خود نہیں پتہ اسکی ڈیمانڈ کیا ہے چھوڑ دو. پارس نے پیشانی مسلتے سب کچھ ذہن سے جھٹکا تھا صاف نظر آ رہا تھا پر یشان ہے ٹیپو نے سمیر کو اشارہ کیا تھا اور کھڑے ہو گئے تھے.. سمیر آگے نکل گیا تھا ٹیپو دروازے تک جا کر پلٹا تھا پارس خاموشی سے تکنے لگی تھی .. پریشان نہیں ہونا .... با لکل بھی نہیں ..


جب تک میں ہوں۔۔۔۔۔۔

 اپنی بات کہہ کر وہ چلا گیا تھا پارس مسکرا دی تھی یوں جیسے بھاری بوجھ سر سے اتر گیا ہو خود کو بیڈ پر گرا کے گہرے سانس لینے لگی تھی

                                                ★★★


انہوں نے بیٹی کو تیار کیا تھا اور دروازے تک چھوڑنے نکلی تھیں اسے کدھر بھیج رہی ہو؟؟؟ زرینہ بھا بھی نے غصے سے دیکھتے پوچھا تھا

 بھا بھی سکول بھیج رہی ہوں ... زرمینہ نے نا سمجھی سے جواب دیا تھا کیوں؟؟؟ سکول کیوں؟؟؟ فیس اسکا باپ دے گا آ کر؟؟ ہم نے کوئی ٹرسٹ سینٹر نہیں کھول رکھا کہ یتیموں کو مفت میں پالتے رھیں ... اور پڑھ کے کونسا اسنے آفیسر لگنا اپنے ساتھ کام پر لگا اسے کچھ سیکھ جائے گی . کل کو بیاہنا بھی ہوگا .. .. آج ساتھ ہاتھ بٹائے گی تو اسکے لئے کچھ اکٹھا کر پائے گی تو اکیلی کچھ نہیں کر سکتی۔ آئی سمجھ؟؟ چل شاباش لے چل  

زرینہ نے اک ہی سانس میں سب کچھ واضح کر دیا تھا اور بنا کچھ سنے چلی گئی تھی زر مینے بیٹی کو ساتھ لگائے ساکت ہی کھڑی کئی پل پل ہی نہیں سکی تھی یہ قسمت کس موڑ پہ لے آئی تھی آنسو پیتی بیٹی تو سامنے ہی حسین صاحب کھڑے تھے نظر چرا کے پاس سے گزر گئے تھے انہیں دیکھ کے امید کی جو کرن نظر آئی تھی وہ بھی تاریک ھو گئی تھی .. مگر اگلے ہی دن نجانے کیا ہوا ا تھا زرینہ نے بیٹی کو سکول داخل کروانے کی اجازت دے دی تھی مگر بیکن ہاؤس نہیں جہاں شمر اور ہارون پڑھتے تھے بلکہ قریبی اک چھوٹے سے مڈل سکول میں گورنمنٹ سکول میں جو تھا تو گورنمنٹ کا مگر وہاں نہ کوئی استاد تھانہ کچھ سامان جو دو تین استاد تھے دل کرتا تو آجاتے ورنہ بچے کھیل کود کے چلے جاتے ۔ زر مینے بیٹی کو صبر شکر کر کے وہی لے گئی تھی۔ راستے میں زر مینے کو چکر آنے لگے تھے بیٹی کو تو سکول چھوڑ آئی تھی اب اکیلی تھی اک گھر کی دیوار تھام کے بیٹھ گئی تھی .. کچھ سنبھلی تو رکشہ پکڑ کے ڈاکٹر نورین کے پاس چلی گئی تھی زر مینے اس حالت میں اتنی لاپروائی اچھی نہیں اپنا خیال رکھا کرو... ڈاکٹر کی تاکید یہ نا بھی سے تکنے لگی تھی کیا مطلب؟ مطلب آپ ماں بننے والی ہیں . او اتنی و یکنس کچھ کھا ئیں ہیں آ۔ کی اور بچے کی دونوں کی صحت کے لیے ضروری ہے... ڈاکٹر کی اطلاع پر وہ تو خوش بھی نہیں ہو سکی تھی چپ چاپ سر بلاتی پر چی لے کر نکل آئی تھی اک خوف... اک تنہائی بے سہارا ہونا سب مل کر اسے ڈرانے لگے تھے اپنے یہ بات سب سے چھپائی تھی مگر کب تک اک دن پتہ چلتی تھی اور جس دن سے ڈرتی تھی وہ دن آ گیا تھا بتا کمینی کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے؟؟ کس کا گند ہے یہ؟ ؟ زرینہ پیٹتی جارہی تھی اور ساتھ بکواس کرتی جارہی تھی ۔


ابے بول کم ذات کہاں سے یہ گناہ کی پوٹلی لائی ہے.. بے غیرت خاندان کی بے غیرت اولاد جب مار مار کے تھک گئی تو تو اک ٹھوکر رسید کر کے اندر چلی گئی تھی 

زرمینے وہی بے سدھ پڑی رہی تھی۔ گڑ گڑا کر رو کر قسمیں واسطے دے کر بھی وہ زرینہ سے بیچ نہیں سکی تھی ۔ اسکی معصوم بیٹی جو اس وقت سکول سے آئی تھی دروازے میں چپ چاپ کھڑی خوف سے کانپتی رہی پیچھے سے ہارون اور ثمر بھی آگئے تھے انہوں نے بھی یہ کھیل آنکھوں سے دیکھا اور اسے دیکھ کر مسکراتے رہے اندر جاتے ہارون نے اک لات زر مینے کو رسید کی تھی تو گڑیا نے بھاگ کے اسے دھکا دیا تھا غضب ہو گیا پھر تو اسنے گڑیا کو بری طرح پیٹ ڈالا تھا اور زرمینے کے اوپر دھکا دیتا اندر چلا گیا تھا۔ وہ روتی درد سے دو ہری ہوتی ماں کو بلاتی رہی مگر کون سنتا کون تھا وہاں انکا .. شام کو جب حسین صاحب آئے تو صحن میں یوں زرمینے کوگرے دیکھ کر اور گڑیا کو روتے دیکھ کر دل کانپ گیا تھا انہوں نے آگے بڑھ کر زرمینہ کو اٹھایا اور ہسپتال لے گئے مگر شاید دیر ہو چکی تھی زر مینے کی روح پرواز کر چکی تھی وہ روتی بلکتی گڑیا کو ساتھ لگائے ڈیڈ باڈی لیے گھر آ گئے تھے .. پھر کیا ہوا تھا گڑیا کو کچھ یاد نہیں تھا. یاد تھا تو اتنا ہارون کی خالہ زاد آئی تھی رخما جو اس سے چھ سات سال بڑی تھی ہارون کی ہم عمر .. اسنے گڑیا کے پاس آ کر کہا تھا


جب تم نے گھر سے بھا گنا ہونا ? یا منہ کالا کرنا ہو تو میرے گھر آ جانا بلیومی خالہ جیسا بالکل نہیں کروں گی بہت پیار اور سکون سے رکھوں گی عیش کر لینا ... گڑیا تو معصوم تھی سمجھ ہی نہ سکی مگروہ خاصی تیز اور چالاک لڑکی تھی وہ تینوں ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہنستےے اندر کی جانب بڑھ گئے تھے اور وہ وہی کونے میں دبکی سکڑی سمٹی بیٹھی رہ گئی تھی ۔۔

                                                     ★★★


اے بے غیرت ماں کی بے غیرت او لا د کب تک سوگ منائے گی اس کیمنی کا اٹھ کام کر چل کے۔یا وہ تیرا باپ کرے گا کیا ?چل اٹھ زرینہ اسے بازو سے کھینچتی کچن میں لے گئی تھی جہاں برتنوں کا ڈھیر لگا تھا ہر چیز گندی بد بودار ہو رہی تھی ..


چل شروع ہو جا یہ سب صاف کر پھر برتن دھو جلدی کر زرینہ نے حکم دینے کے ساتھ دودھمکے بھی جڑ دیئے تھے وہ آنسو لیے آنکھوں میں کبھی برتنوں کو دیکھتی کبھی باہر جہاں سے دوبارہ زرینہ کے آنے کا ڈرتھا آنسو پیتی اپنے نرمو نازک ہاتھوں سے ایڑیاں اٹھا کے برتن دھونے لگی تھی ہارون اور شمر کچن کے دروازے میں کھڑے اسکی گڑیا کھلونے جو اس کا باپ اسے لیے لایا تھاد بوچے ھنستے اور مذاق اڑاتے


جارہے تھے.. بارون تو با قاعدہ نگران کھڑا تھا زرا سا وہ کمر سیدھی کرنے کو سیدھی ہوتی وہ اسکے بالوں سے پکڑ کر گما دیتا تھا ثمر اور رخما پیٹ پہ ہاتھ رکھے دوہرے ہورہے تھے اور پھر یہ روز کا معمول بن گیا تھا ہارون اپنے سارے کام اس سے کرواتا تھا سکول سے آکر لیٹ جاتا اور اسے کہتا شوز ا تا رو میرے.. زراسی غلطی پر سے ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا تھا ... مگر رب کی ذات تھی کہ اب تک چپ سب دیکھتی تماشہ دیکھ رہی تھی

                                    ☆☆☆

اک سجن ہوندا سی

زہراں وچ پتاسے ورگا

سُرمے سک دنداسے ورگا

دُکھاں وچ دلاسے ورگا

سجرے چن دے ہاسے ورگا


اک سجن ہوندا سی

الّھڑ شوخ ہواواں ورگا

دُھپاں دے وچ چھاواں ورگا

اوکھے ویلے بانہواں ورگا

اٹھے پہر دعاواں ورگا


‏اِک سجن ہوندا سی

تِکھا تیز شراباں ورگا

رنگ تے روپ نواباں ورگا

سُچا پُھل گُلاباں ورگا

پِچھلی رات دے خاباں ورگا


اِک سجن ہوندا سی

مِٹھیاں مِٹھیاں باتاں ورگا

چیت وساکھو راتاں ورگا

پیار دیاں سوغاتاں ورگا

عیداں تے شبراتاں ورگا


‏اِک سجن ہوندا سی

پھگن چیت بہاراں ورگا

انب تے سیب اناراں ورگا

صاحب تے سرکاراں ورگا

ہفتے تے اتواراں ورگا


اِک سجن ہوندا سی 

مکھن دُدھ ملائیاں ورگا

ٹانگر گچک خطائیاں ورگا

برفی، کھنڈ مٹھائیاں ورگا


فون کی بیپ پر وہ متوجہ ہوئی تھی اور سر اٹھائے بناریسیو کر کے فون کان سے لگایا تھا ۔ دوسری طرف سے جو خبر سنائی گئی تھی پارس فورا کھڑی ھو گئی تھی ۔ .اسنے صارم کو سب سنبھالنے کی تاکید کی اور چابی اٹھا کر بھاگی تھی ریش ڈرائیونگ کرتی ڈیڑھ کی بجائے اک گھنٹے میں وہ مری پہنچ چکی تھی۔ اسے دیکھتے ہی سعد نامی لڑکا جسکی منکوحہ اغواء ہوئی تھی ہاتھ باندھے اسکے سامنے کھڑا تھا


پلیز خدا کا واسطہ مجھے میری سحر لادیں میں آپکا ساری زندگی احسان مندر ہوں گا .. آپکو اللہ رسول کا واسطہ .. وہ مرد ہو کر اک عورت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رو ر ہا تھا 


ريليكس.. ریلیکس ... حوصلہ رکھیں کچھ نہیں ھوگا... اللہ سب بہتر کرے گا ۔ پارس اسے تسلی دیتی نور کے پاس صوفے پہ آ بیٹھی تھی اور اس سے تفصیل پوچھنے لگی تھی یار ہم کرکٹ کھیل رہے تھے روحی نے شارٹ لگائی تھی سحر لینے بھا ئی تھی دروازے کی طرف مگر کافی دیر انتظار کے بعد بھی وہ نہیں لوٹی ہم گئے ہر جگہ ڈھونڈ لیا مگر وہ کہیں نہیں ملی نور نے تفصیل بتائی تھی وہ سر بہاتی کچھ سوچنے لگی تھی۔


سمبر اور ٹیپو کدھر ہیں؟؟؟ وہ تو صبح کے کہیں غائب ہیں میں انکو بہت کال کی مگر نمبر بند تھا .. پھر آپکو فون تبھی نور کے بتانے پر اتنے پھر سے میر کا نمبر ملایا تھا جو بند آرہا تھا پھر ٹیپو کاملا یا شکر خدا کا کہ وہ آن ملا تھاوہ کال پک کر چکا تھا۔ پارس کی اطلاع پر اگلے ہی کچھ منٹوں میں دونوں گھر تھے ...


پارس اور وہ دونوں با ہر نکل چکے تھے .. ان تینوں کا شک سیٹھ تیمور تھا سعد لوگ بھی اسی پر شک کر رہے تھے کیونکہ جن کے ڈر سے وہ گھر سے بھاگے تھے ان کے علم میں قطعا نہیں ھو گا کہ وہ کہاں ہیں ی حرکت سیٹھ کی ہے مگر ان سب کے برعکس روحی کا کہنا تھا سیٹھ اٹھاتا تو سب کو لے کر جاتا اک کو ٹیپو بار بار روی کو دیکھتا تھا نجانے کیوں نظر بار بار اسی پہ جار کی تھی ۔ پارس سے کہا تھا وہ سیٹھ کو اٹھا لاتے ھیں مگر پارس نے منع کر دیا تھا بلکہ اسکا پلان کچھ اور تھا جو ہ ان دونوں سے ڈسکس کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔

                                                  ☆☆☆


چھ ماہ ہو گئے تھے اسے روز ان ظالموں کے ہاتھوں پیٹتے وہ پیاری سی نازک پھول سی بچی مرجھا کے رہ گئی تھی ۔ سکول چھڑوا کے روز برتن اور کپڑے دھلوا دھلوا کے ادھ موا کر دیا تھا۔ آج بھی اتنی بھاری کھانے کی ٹرے زرینہ بیگم نے رخما کو تھمائی تھی کچن میں رکھنے کو جو اسنے با ہر گڑیا کو دیکھ کر پکڑا دی تھی وہ معصوم چھ سات سال کی بچی اتنی بھاری شیشے کے برتنوں سے لدا ٹرے کیسے اٹھا پاتی دھڑام سے گری تھی اور سب چکنا چور ہو گیا تھا۔ ہارون زرینہ سب دھما کے پہ باہر آئے تھے گڑیا ڈر کے مارے باہر درخت کے پیچھے جا چھپی تھی۔ امی تو پاگل ہو رہی تھی ہارون ڈھونڈتا پھر رہا تھا جبکہ ثمر اور رخما کھڑی مسکرا رہی تھیں۔ گڑیا نے ادھر ادھر دیکھا اور نظر بچا کے گیٹ سے باہر نکل آئی تھی ننگے پاؤں بھا گئی جارہی تھی خوف سے مڑ مڑ کے دیکھتی جارہی تھی ۔ جب بھاگتے بھاگتے تھک گئی تو سڑک کے اک طرف درخت کے پیچھے چھپ کے بیٹھ گئی تھی تھکن کے مارے برا حال تھا درخت سے ٹیک لگائے ہی سو گئی تھی ۔۔ کہتے ہیں نیند سولی پر بھی آ جاتی ہے وہ تو پھر معصوم بچی تھی جس نہ نقصان کا پتہ تھا نہ نفع کا بس ڈر سے بھاگتی پھر رہی تھی ۔۔ جہاں زرا اطمینان ہوا کہ وہ یہاں نہیں وہ سوگئی تھی ۔۔ اور اسکے لیے یہ سونا قسمت کے کس موڑ پر لے کے جانے والا ہے وہ بے خبر تھی۔

                                      ☆☆☆



اسے کہنا جہاں ہم نے 

بچھڑتے وقت لکھا تھا

کوئی بھی رت ہو

کوئی بھی موسم ہو

محبت مر نہیں سکتی

وہاں لکھ گیا ہے کوئی

تعلق خواہ کیسا بھی ہو

بلآخر ٹو ٹ ہی جاتا ہے

طبعیت بھر ہی جاتی ہے

کوئی مانے یا نہ مانے

محبت مر ہی جاتی ہے



کام ہو گیا پارس .. ان دونوں نے اندر داخل ہوتے اطلاع دی تھی گڈ۔۔۔۔ویری گڈ


آپکو کیا لگتا ہے اس طرح وہ اپنا جرم مان لے گا؟؟؟ سمیر نے صوفے پر لیٹتے ہوئے پارس سے پوچھا تھا با بابا، جرم جرم مانے کو چھوڑو د یکھنا وہ سر کے بل چل کے آئے گا سر کولے کے .... پارس کھل کے بنی تھی۔ یہ آپکویقین کیوں ہے اتنا ؟؟؟ ٹیپو بھی حیران ہوا تھا۔ یقین؟؟؟ یقین نہیں ایمان ہے میرا... میں وہی کام کرتی ہوں جس پہ میرا ایمان ھوتا ہے


جہاں بس یقین ہو وہاں بھی میں قدم نہیں رکھتی اعتبار یقین بھی اکثر ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں مگر جو باقی رہنے والا ہے وہ ایمان ہے۔ سو تم بھی تب تک کوئی کام مت کیا کرو جب تک اسکے ہونے پر پوری طرح ایمان نہ لے آؤ.. پارس کی بات پر دونوں اک دوجے کو تکتے رہ گئے تھے ...


تم لوگوں نے ان کو کچھ کہا تو نہیں ڈرایا دھمکایا یا مار ؟؟؟ جاتے جاتے اپنے پلٹ کے پوچھا تھا ۔ با با ضرورت ہی نہیں پڑی... ڈراوے کے لیے شہزادے کی صورت کافی تھی سمیر دل کھول کر ہاتھا پارس نے ٹیپوکو دیکھا تھا جو کھا جانے والے انداز میں گھور رہا تھا اسے..


بری بات میر .. پارس نے ٹو کا تھا ... سوری ... مگر یہ جگر ہے اپنا برا نہیں مانتا سمیر نے اٹھ کے بازو ا سکے گلے میں حمائل کیا تھا ٹیپو اس مسکے بازی پر مسکرا کر رہ گیا تھا


اچھی بات ہے... چلو آ ؤانکو دیکھیں ..


پارس آگے بڑھتی انہیں بھی آواز دے ڈالی تھی


دونوں پیچھے بھاگے تھے ...


وہ دونوں سے ڈرے سہمے بچے اک کونے میں دبکے بیٹھے تھے.. پارس کے اندر داخل ہوتے ہی و وہ اسے پہچان گئے تھے کیونکہ وہ نمرہ کے سکول میں پڑھتے تھے اور پارس اکثر ا سکے سکول جاتی تھی اسکی رپوٹیشن پوچھنے سو سب بچوں سے دوستی تھی کیونکہ وہ بچوں سے بہت پیار کرتی اور بہت سارے کھلونے اور کھانے کی چیزیں دے کر آتی تھی ... وہ دونوں اسے دیکھتے ہی بھاگ کر اس سے لپٹ گئے تھے۔ پارس بچوں کی بے خبری اور معصومانہ پن پر مسکرادی تھی اور صوفے پر بیٹھی انہیں


ساتھ بیٹھا لیا تھا.. پارس آنی یہ گندے ہیں یہ ہمیں یہاں اٹھا لائے ہیں ہم گھر سے لیٹ ہوگئے . اب ہم گھر سے لیٹ ہو گئے ہیں مامابا با پریشان ہونگے ہمیں گھر چھوڑ آئیں آپ... دائیں طرف بیٹھاشایان اسکا بازو تھام کے بولا تھا اسنے دونوں کو بازو کے گھیرے میں لے لیا تھا۔ آپکے بابا کو بتا دیا ہے آپ ادھر ہو وہ خود آئیں گے آپکو لینے... ... آپ پریشان مت ہو یہ بتاؤ کیا کھاؤ گے؟؟ پارس انکوباتوں میں لگا کر بہلا چکی تھی انکو کھانا کھلایا ڈھیروں چیزیں کھلونے منگوا کے دیئے تھے وہ سب کچھ بھولے پارس میں گم تھے ٹیپو بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ کیسے منٹوں میں اسنے بچوں کو اپنا بنالیا تھا .. بچے کھیل رہے تھے اور وہ سامنے بیٹھی اپنے خیالوں میں اتنی مگن تھی کہ موتیوں کی طرح ٹوٹ کے گرتے آنسوؤں کا بھی احساس نہیں ہور ہا تھا ۔ وہ کیوں رو رہی تھی ٹیپو نا واقف تھا مگر اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے مگر وہ کیا کر سکتا تھا اٹھ کے باہر نکل گیا تھا۔


ہیلو!!! شاہد میری گاڑی خراب ہو گئی ہے میں ادھر گلشن پارک کے دائیں جانب کھڑا ہوں جلدی . انہوں نے فون بند کر کے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور بادلوں سنگ گھرے آسمان تلے ٹھنڈی فضا میں سانس لینے لگے تھے جب اچانک نظر درخت سے ٹیک لگائی بچی پہ پڑی تھی شام ہو چکی تھی تاریکی پھیلتی جارہی تھی موسم بھی خراب ہور ہا تھا اس حال میں اس جگہ بچی کا یہاں سونا ... وہ سوچتے بچی تک گئے تھے۔ وہ سورہی تھی انہوں نے اس بازو سے پکڑ کر جگایا تھا۔ . اس طرح اچانک اٹھانے پر وہ ہڑ بڑا کر سیدھی ہوئی تھی اور ڈر کے مارے درخت سے چپک گئی


بیٹا آپکا گھر کدھر ہے؟ دیکھو رات ہوگئی ہے موسم خراب ہے آؤ گھر چھوڑ آؤں؟؟؟ انہوں نے پیارے کہا تھا۔ گھر ؟؟؟ نہیں وہ مار دیں گے... بڑی زور سے مارتے ہیں وہ وہ معصوم سے انداز میں بولی تھی



کون مارتا ہے اتنی پیاری سی پری کو؟ انہوں نے گال چھو کر پوچھا تھا۔ ہارون بھائی, رخما اور ثمر آپی, آنٹی سب مارتے ہیں انہوں نے نا میری مہا کو بھی مار مار کے مار دیا مر گئی وہ انہوں نے مجھ سے میرے بابا کے لائے کھلونے بھی لے لیے میر اسکول بھی بیگ بھی سن کچھ بڑے گندے ہیں وہ وہ سب بتاتی گئی اتنی سی بچی پر اتنا ظلم انکا دل کٹ کے رہ گیا تھا۔ اچھا چلو آ پ میرے ساتھ میرے گھر چلو .. انہوں نے اٹھانا چاہا تھا۔ کیوں آپنے بھی مجھ سے برتن اور کپڑے دھلوانے ہیں ؟؟؟ اسکی بات پر وہ چپ سے رہ گئے تھے اس عمر میں اتنی باتیں انسانیت کہاں جاسوئی ہے اس دنیا ہے۔ بالکل نہیں آپ تو بہت پیاری سی باربی ڈول ہو آپکو پیار کریں گے ڈھیر ساری چیزیں دیں گے اور کھیلیں گے بھی انکی بات پر وہ کچھ دیر چپ رہی تھی اچھا تو پھر مجھے ہارون بھائی کے گھر تو نہیں چھوڑ کے آئیں گے نا ؟؟ آپ مجھے ان سے چھپالیں گے تا ؟؟؟ معصومیت سے بولتی انکو بہت پیاری لگی تھی ۔ ہاں با لکل چھپالیں گے.. بلکہ اسکے ہاتھ بھی تو ڑ دیں گے جو آ پکو ہاتھ بھی لگائے اسے تسلی اور پیار کرتے وہ گاڑی تک لے آئے تھے جہاں ڈرائیور کھڑا انکا انتظار کر رہا تھا .. 

                                  ☆☆

اسیں عشق دے ایسے قیدی آں 

سانوں ڈر نہ یار رسوائیاں دا۔۔۔


‏اسیں چپ چپیتے سہنے آں 

سانوں کھا گیا روگ بےپروائیاں دا۔۔۔


وہ جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئی تھی سعد تڑپ کے اسکی طرف بڑھا تھا میری سحر؟ جتنی تڑپ انداز میں تھی اس سے کئی زیادہ آواز میں تھی ۔ ضبط سے پارس کی مٹھیاں پینچ گئیں تھیں آنکھیں مفتی سے بیچ کے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کی تھی چہرہ برداشت سے سرخ ہو رہا تھا


بلا آخر اسے گہری سانس کھینچ کے آنکھیں کھولیں تھیں..


ڈونٹ وری آرھی ہے وہ


سعد کو تسلی دیتی با ہر نکل گئی تھی ۔ اذیت کی انتہا پہ کھڑی وہ


لان میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی ٹیپو بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا اس وقت سیٹھ تیمور گیٹ سے اینٹر ہوا تھا ساتھ پھر بھی تھی۔ بحر بھاگ کے پارس کے بازو سے جالگی تھی جبکہ پارس اسکے گرد بازو کا گھیرا ڈالے تسلی دے رہی تھی ساتھ سامنے کھڑے سیٹھ کو دیکھ رہی تھی


جو بہت برداشت سے وہاں کھڑا تھا ....


میرے بچے؟ غصہ ضبط کرتے پوچھا تھا۔ اتنی تکلیف کیوں بیٹھ تیمور ؟ جو ہزاروں ماں باپ کے لخت جگر چھین لیتے ہو تب تمہیں تکلیف کیوں نہیں ھوتی ؟ جب انکے باڈی پارٹس فروخت کرتے تب تمہاری تڑپ شفقت کہاں مر جاتی ہے؟ کیا وہ کسی کی اولاد نہیں ھوتے ؟؟ کیا ان ماں باپ کا دل خون کے آنسو نہیں روتا ھو گا ؟ ؟ ؟ ظلم کی انتہا پہ ہو سیٹھ تیمور ؟؟ حد ہے نا ... پارس کی تلخ سچائی پہ وہ سر جھکا کے رہ گیا تھا کیونکہ فی الوقت بولنے کے قابل نہیں تھا۔ 


سمیر دونوں بچوں کو لے آیا ۔ جو پارس کے پاس آکھڑے ھوئے تھے .. اللہ حافظ پارس آنی دونوں نے مسکرا کر ہاتھ ملایا تھا پارس بھی مسکرادی تھی سیٹے تیمور آئندہ مجھ سے پنگا لینے سے پہلے سوچ لینا آج تک میرا پیار اور جنسی دیکھی ہے تم نے میرے اندر جو نفرتوں اور تلخیوں کے پہاڑ ہیں ان سے واقف نہیں ہو تم میں بہت ضبط کی کوشش کرتی ہوں مگر بس وہاں تک جہاں تک بات میری ذات تک ہو جہاں مجھ سے جڑے رشتوں کو نقصان پہنچانا چاہے کوئی میں اسکے ٹکرے کر کے کتوں کے آگے ڈال دیتی ہوں ......... میری خاموشی اور شرافت کو دوبارہ میری کمزوری مست گردانتا.ور نہ آج تو خود چل کے میرے گھر تک آئے ہو آئندہ اتنی بھی مہلت نہیں دوں گی۔ سو اب کچھ بھی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا ۔ پارس نے اک اک لفظ چبا چبا کے بولا تھا۔ بیٹھ غصے کے گھونٹ بھر کے رہ گیا تھا دونوں بچوں کی انگلی تھا مے نکل گیا تھا۔ سمیر اور ٹیچ دونوں چپ کھڑے تھے کیونکہ اتنی تلخی پارس میں کبھی نہیں دیکھی تھی اسے ہر پل بنتے مسکراتے دیکھا تھا۔ جیسے ہی پہلی تھی سامنے وہ سارے کھڑے تھے۔ سحر بھاگ کے بعد کے سینے سے جاگی تھی پارس بنا کوئی تاثر دئیے سپاٹ چہرے کے ساتھ تیزی سے نکل گئی تھی۔ وہ سب اسے جاتا دیکھ رہے تھے انہیں ابھی تک پارس حسن سمجھ نہیں آئی تھی کیونکہ نہ وہ کسی سے بات کرتی تھی نہ کسی کے پاس بیٹھتی تھی اپنے آپ میں مگن رہنے والی لڑکی تھی اور سب سے اہم اور سب سے اہم بات جو نوٹ کی اسکی آنکھیں جو شاید تھیں تو کالی مگران میں سرخ ڈورے قدرتی تھے اوپر سے وہ آنکھیں ہمیشہ تم دیکھی گئی اکثر دیکھنے والوں کو اسکی نظریں اپنے گھر میں جکڑ لیتی تھیں لیکن وہ نظر جھکا کے رکھتی ہے اس ڈیڑھ ماہ میں اک دن شاید ھو گا جو ان میں سے کسی کی پارس حسن سے نظر ملی ہو دوسرا اس میں فیشن نہیں تھارنگ برنگے ماڈرن ڈیزائن شد و ڈریس بھی نہیں پہنتی تھی وہ سمپل جینز اور لانگ میں سر پہ اسکارف باندھے پائی جاتی ہے اگر کوٹ نہ ہو تو گھٹنوں تک شرٹ نہ 

لمبی نہ چھوٹی انہوں نے اسکی کئی پک دیکھی ہر پک میں اسکا اک ہی انداز لانگ شرٹ فیشن میں ہے یا شارٹ اسنے وہی پہنی جو اسکے مزاج میں اور سر پہ اسکارف لازمی لپیٹ کر رکھتی تھی۔ اور فیشن نہ ہونے کے باوجود بھی وہ ان سب میں زیادہ با وقار اور سحر انگیز پر ملٹی والی لڑکی تھی آنکھوں میں نمی تھی مگر لب ہمیشہ مسکراتے ملے یہی سمجھ نہیں آسکی کہ آنکھیں نم تو لب پہ ہنسی کیوں اگر لب پہانسی ہے تو آنکھیں نم کیوں .. اس دھوپ چھاؤں جیسی لڑکی سے اک تو شاید دل ہار بیٹھا تھا اور اک محض جلن سے حسد کی آگ میں جلنے لگی تھی

                                     ☆☆☆

عشق سے مَیں ڈَر چُکا تھا, ڈَر چُکا تو تم ملے

دل تو کب کا مَر چُکا تھا, مَر چُکا تو تم ملے


جب مَیں تنہا گھٹ رہا تھا تب کہاں تھی زندگی

دل بھی غم سے بَھر چُکا تھا, بَھر چُکا تو تم ملے


بے قراری, پھر محبت, پھر سے دھوکہ ! اب نہیں

فیصلہ میں کَر چُکا تھا, کَر چُکا تو تم ملے


مَیں تو سمجھا سب سے بڑھ کر مطلبی تھا مَیں یہاں

خود پہ تُہمت دَھر چُکا تھا, دَھر چُکا تو تم ملے


تیرے آنے سے بھی پہلے کوئی آ کر خواب میں

رنگ مجھ میں بَھر چُکا تھا, بَھر چُکا تو تم ملے


ورنہ ہم سب ڈوب کر رکھتے محبت کا بھرم

اپنا بیڑا تَر چُکا تھا, تَر چُکا تو تم ملے


تم کو کیا معلوم ہوگا زیبؔ پچھلی جنگ میں

سارا لشکر ہَر چُکا تھا, ہَر چُکا تو تم ملے



گاڑی جیسے ہی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی وہ بچی حیرانی سے گھر کے اندر اتنی لمبی سڑک کو دیکھنے لگی تھی جس کا گیٹ سے گیراج تک کا فاصلہ دس منٹ کا تھا گاڑی پر اتنا بڑا گھر وہ گاڑی سے اتر کر کھوئے کھوئے انداز میں ہر طرف نظر دوڑ رہی تھی اتنے بڑے لان رنگ برنگے پھول اور پہ پودوں کی کٹنگ ایسا لگتا تھا جنت میں جو بندہ شامل آفریدی اسے یوں حیران دیکھ کے مسکرا دیئے تھے آگے بڑھ کر ملازم نے بریف کیس لیا تھا انہوں نے گڑیا کی انگلی تھام لی تھی اور اندر کی طرف بڑھے تھے جیسے جیسے وہ چلتی جارہی تھی حیران ہوتی اور خوش ہورہی تھی واڈونڈ لینڈ بے ساختہ بولی تھی شائل صاحب فنس دیئے تھے یہ آپکا گھر ہے؟ اپنے حیرانی سے پوچھا تھا جی بلکل میرا ہے اور آج سے آپکا بھی .. میرا ؟ وہ حیران ہی انہیں سکنے لگی تھی جی آپکا آپ میری گڑیا اور میں آپکا بابا . انہوں نے اسکے گال پر پیار کرتے کہا تھا واؤ .... وہ سب کچھ بھلائے بس گھر میں دوڑتی بھاگتی پھر رہی تھی شمائل صاحب نے ملازمہ کو بھیج کے اسکے لیے ڈریس جوتے سب منگوایا تھا اب وہ بیچ کی گڑیا بنی کھڑی تھی شائل صاحب کو جانے کیوں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی بے اختیار پیار لنا ر ہے تھے اور سب کو تا کید بھی کی تھی کہ آج سے گڑیا کا ہر کام وقت پہ ہو جو وہ کہے مانا جائے اسکے کسی کام میں تا خیر نہ ہو ، سب نے یہ سبق از میر کر لیا تھا۔ اچھا یہ بتاؤ کونسے اسکول جائے گی گڑیا ؟؟ شمائل صاحب نے اسے کھانا کھلاتے پوچھا تھا بڑے والے وہ معصومیت سے بولی تھی روٹس اسکول سسٹم چلے گا؟ انکے کہنے پہ پل میں اسکا رنگ بدلا تھا وہاں ہارون بھائی لوگ جاتے میں نہیں جانا ۔ اسنے زبر دست نفی کی تھی چلو پھر بیکن ہاؤس وہ بیسٹ بھی ہے اور بہت بڑا بھی اس میں پلے لینڈ بھی ہے اور پیارے پیارے ٹیچر بھی ... شمائل صاحب دوسرا آپشن دیا تھا ہاں وہاں مجھے ڈیڈی ایڈمیشن کروایا تھا۔ وہ جوش سے بولی تھی مگر ڈیڈی کے بعد مجھے پڑھنے نہیں دیا ان گندے لوگوں نے وہ منہ لٹکا کے بولی تھی چلو اب پھر وہی چلیں گے ۔ وہ خوش ھو گئی تھی۔۔۔


دوسرے ہی دن شمائل صاحب اسے سکول داخل کروا آئے تھے۔ اپنا سکول اور ٹیچر ز دیکھ کے وہ بہت خوش تھی پھر نئے جوتے یونیفارم اور بکس .. وہ سب لے کر گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی مگر اب چہرے پر رونق کی بجائے اداسی تھی آنکھوں میں آنسو تھے شائل صاحب گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے دیکھ کر چونک گئے تھے پھر اسکی نظر کا تعاقب کیا تھا وہ گیٹ پہ کھڑی بچی اور اسکی ماں کو دیکھ رھی تھی جو روتی بچی کو سینے سے لگائے چپ کروارہی تھی ساتھ گد گدا بھی رہی تھی وہ بچی روتی روتی ہنس دیتی تھی 

گڑیا ۔۔۔۔شمائل صاحب پیار سے پکارا تھا 

گڈ گرل . اب گھر چلیں؟؟؟ انہوں نے مسکرا کر سوال کیا ... نہیں تو اب ہم پلے لینڈ جائیں گے پھر آئس کریم کھائیں گے پھر گھر جائیں گے . وہ دادی اماں بنی سمجھارہی تھی شمائل صاحب قہقہہ لگا کر ہنسے تھے جی جو حکم ھماری بیٹی کا ۔

چلو بھئی کرم دین سید ھے پلے لینڈ انہوں نے ڈرائیور کو حکم دیا اور خود اس سے باتیں کرنے لگے تھے۔


دیکھو جو بھی کرنا ہے جلدی کرو میری ڈیل کی ہو چکی ہے میں پے منٹ بھی لے چکا ہوں اب وعدے کے مطابق چیز اسکے خلاف نہ کرنے کا مطلب تم جانتی ہو نہ صرف پے منٹ لوٹانی پڑے گی بلکہ انھیں یا زواتو ٹر کے کسی گہرے کنویں میں پھینک دیں گے۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے. سیٹھ فون پر کسی پر برس رہاتھا


نہ نہ نہ ناممکن آرڈر سونے کا دے کے چیز پیتل کی ہمارا اصول ہی نہیں جس پر سودا ہوا و ہی دینا ہے اور وہ نہ مسلم ہیں نہ پاکستانی ، کہ لحاظ کریں سو جلدی کرو جو بھی کرنا اور مجھے بتاؤ میں اب کسی ٹھوس اور مضبوط پلان سے ہاتھ ڈالوں گا آگے سے جانے کیا کہا گیا تھا جو وہ انکاری تھا پھر تسلی دینے لگا تھا کیسا پلان؟؟؟ بیزاری سے سیٹھ نے پوچھا؟؟؟ آگے سے شاید کوئی تفصیل بتانے لگا تھا۔


پہلے بھی تمہارا پلان لے ڈوبا ہے مجھے اور اب یہ نیا ڈرامہ وہ سچ میں اکتایا ہوا تھا یا اعتبار اٹھ چکا تھا اگلے سے۔


اسکے لئے پہلے تمام ڈاکومنٹس چاھئیں اور پراپرٹی کی معلومات پھر ممکن ھے ... چلو جلدی سے دیکھ لو ور نہ میں اسکی جگہ تمہارا نام رکھ دوں گایا درکھنا سیٹھ غصے سے دھمکی دیتا فون بند کر گیا تھا تبھی شایان اسکے پاس آبیٹھا تھا بابا آپ اپنا وعدہ بھول گئے میری سائیکل نہیں لائے نا ؟ وہ خفگی سے یاد دلا ر ہاتھا شیر ایا د ہے؟ بلکل یاد ھے بس کام ہی اتنا تھا وقت نہیں ملا کل سنڈے ہے ساتھ چلنا پسند سے جو جو لیا حوالینا سمیٹی تیمور نے بیٹے کو گود میں بیٹھا کر پیار کرتے کہا تھا پکا ؟ پھر پہلے لینڈ بھی جانا ہے اور آئس کریم کھانے بھی .. شایان نے اک آفر سے ڈبل فائدہ اٹھاتے ہوئے پلان کیا تھا۔ جی پکا شہزادے اچھا یہ بتا ؤ وہ جو پارس تھی اسے کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا تھاتو دونوں کو؟؟؟ 


کسی خیال کے تحت سیٹھ نے سوال کیا تھا نہیں تو بابا پارس آنی بڑی گریٹ ہیں بہت پیار کرتی ہیں اتنے سارے کھلونے دیئے ہم دونوں کا کھانے والی چیزیں بھی اور ہم نے کرکٹ بھی کھیلی بہت مزہ آیا ہمیں پتہ ھے باباوہ جب بھی سکول جاتی میں سب بچوں سے اتنا پیار کرتی ھیں اتنی چیزیں دیتی ھیں سب کو پارس آنی پسند ہیں شایان پارس کی تعریفوں کے پل باندھنے لگا تھا سیٹھ مسکرا دیا تھا


تبھی تو دنیا اسکے قدموں میں رہتی ہے اللہ اسے انہیں اچھائیوں کے بدلے عظیم تر بنا رہا ہے وہ خود سے ہم کلام ہوا تھا .. .. اور پھر شایان کا ہاتھ تھام کر اندر کی طرف بڑھ گیا تھا

                                            ☆☆☆

وہ کتابوں میں درج تھا ہی نہیں

 جو پڑھایا سبق زمانے نے مجھے

 شمائل آفریدی نے تمام محبتیں گڑیا یہ لٹا دیں تھیں اسے پہ اتنی محنت کر رھے تھے کہ وہ اک با ہمت اور بے خوف بہادر لڑکی بن جائے انہوں نےاسے گھر پر اپنے بنے جم خانہ میں باکسنگ سیکھائی تھی کئی کئی گھنٹے وہ اسکے ساتھ اس کام میں لگا دیتے تھے پھر اسے کراٹے سیکھائے تھے جب اسے ساری سمجھ آ گئی تو اسے سینٹر لے گئے تھے اور با قاعدہ کورس کے بعد اس بلیک بیلٹ ملا تھا وہ اسکے اندر اتنی مثبت اور بھلائی کی طاقتیں انڈیل چکے تھے کہ وہ کسی سے ہار یا خوف زدہ نہ ہو پاتی پڑھائی میں وہ سب سے آگے تھی پہلی پوزیشن کی اسکی تھی۔دن رات گزرتے گئے اور وہ آٹھویں کلاس میں آگئی تھی مگر بچپن کا اک اک پل اسے ازبر تھا اک اک لمحہ ذہن کی سکرین پر فٹ تھا۔ 

بابا آپکو بریر یاد آتا ہے? میتھ کے سوال کرتے کرتے نجانے کیوں خیال آیا تھا وہ لیپ ٹاپ سے نظر اٹھا کر اسے تکنے لگے تھے۔


آج کیوں کدھر سے خیال آیا ؟؟؟ وہ بابا آپکے ساتھ جو انکل رابرٹ آئے ہیں نا انکا بیٹا بھی ہے اتنی ہیلپ کرتا ہے انکی وہ ہردم فریش دیکھتے ہیں کہتے ہیں بس ڈینیل نظر آتا ہے تو تھکن اتر جاتی ھے اس لیے آپکو بھی تو یاد آتی ہوگی ، وہ ھوتا تو آپ بھی ریلیکس ہوتے۔ ھے نا ؟؟ وہ اسکے مشاہدے سے حیران تھے


واہ ھماری گڑیا تو سیانی ھو گئی ھے. انہوں نے ساتھ لگایا تھا اسے.. با بابات گھمائیں مت بتائیں نا وہ بضد تھی وہ مسکرا کر رہ گئے تھے مگر دل درد سے بھر گیا تھا اولاد کو کون بھول سکتا ھے بھلا ہر دم یاد ھے مگر نصیب ھے نا میرا بیٹا باپ کے ہوتے قیمی کی زندگی جی رہا ہے نجانے کیسا ھو گا باپ کا اتنا بزنس اور بیٹے کا پتہ نہیں کیا حال ہوگا ۔ وہ دکھ سے چور لہجے میں بولے تھے۔


بابا کیا آپکو علم نہیں وہ لوگ کہاں رہتے ہیں ؟؟؟ انہیں دکھی دیکھ کر وہ بھی اداس ھو گئی تھی پتہ ہوتا تو کب کامل چکا ہوتا ساتھ لے آتا مگر یہی تو نہیں معلوم کدھر ہیں جب سبین اسے لے کر گئی تھی تو جلد ہی شادی کر لی تھی اسنے پھر پتہ چلا کینڈا جا چکی ھے اسکے بھائی نے گھر بدل لیا شاید شہر سے ہی چلے گئے میں بہت پتہ کروایا مگر آج تک نہیں مل سکا مجھے انکی آنکھیں نم ہو چکیں تھیں۔ وہ بھی اداس ہو چکی تھی ..


خیر اللہ خوش رکھے ،سلامت رکھے جہاں بھی ہے میرے پاس تم ھونا? تم بیٹے سے کم ہو کیا ؟؟؟ انہوں نے اسے سینے سے لگاتے کہا تھا میراشیر بیٹا ھو تم وہ انکے پیار پہ رونے لگی تھی ارے ارے یہ کیا ؟؟؟ انہوں نے اسے روتا دیکھ کر پوچھا تھا بابا آپ بہت اچھے ہیں ساری دنیا سے اچھے کوئی بھی آپ جیسا نہیں اللہ پاک بریر کو بھی جلد آپ سے ملوائے تا کہ اسے اتنے اچھے بابا ملیں وہ انکے گلے میں بانہیں ڈال کے بولی تھیں وہ وہ مسکرا دیئے تھے وہ حقیقی عظیم انسان تھے اور ایسے لوگ صدیوں بعد جنم لیتے ھیں...


مجھے آپکی شکایت ملی ہے گڑیا آج سکول سے کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھتے ہوئے انہوں نے اس سے کہا تھا۔ وہ حیرانی سے دیکھنے لگی تھی انہیں کیونکہ اسکے ذہن میں دور دور تک ایسا کام نہیں تھا جو غلط کیا ہوا اسنے کبھی ستایا ھو ، مارا پیٹا ھو لڑائی کی ھو کچھ بھی نہیں پھر کیسی شکایت؟ آپکی ٹیچر بتارہی تھیں آپ کسی سے بات نہیں کرتی نہ آپ دوست بنائی کوئی نہ آپ کل اس کے ساتھ گھلتی ملتی ہیں کیوں ؟؟؟ انہوں نے بغور سے دیکھتے پوچھا تھا بابا مجھے کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی دوست کی میں اپنی ہر بات ہر دکھ مسئلہ خواہ کی سا بھی تو آپ سے کہ لیتی ھوں اس لئے میں بس اپنے آپ میں مگن رہتی ہوں اسنے بڑے آرام سے جواب دیا تھا لیکن بیٹا ہمیں اس معاشرے میں رہنے اور اس دنیا میں جینے کے لیے دوستوں کی لوگوں کی ضرورت ہمیشہ رھتی ہے یوں سب سے کٹ جاؤ گی تو تنہارہ جاؤ گی انہوں نے نرمی سے سمجھایا تھا 

با با تنہا تو انسان ازل سے ہے تنہا آیا ھے اور تنہا ہی جاتا ہے. لوگوں کے ھوتے بھی اکثر لوگ تنہاجی رہے ہیں۔ اور ویسے بھی بابا مجھے کوئی بھی قابل اعتبار نہیں لگاتا اس لیے زیادہ گھلتی ملتی نہیں میں ۔۔۔۔

ویسے تو میری ساری کلاس سے اچھی بات چیت ھے. اس نے اپنی کہہ کر آخر پہ صفائی بھی دے ڈالی تھی ۔ شمائل صاحب حیران تھے کہ بارہ تیرہ سال کی بچی اعتبار اور بے اعتباری کے بیچ الجھی ہے اسے ابھی سے یہ معلوم تھے انسان بے اعتبار ھوتا ہے


بابا آپ کیوں پریشان ھیں ؟؟؟ میں بلکل نارمل ہوں ٹیچر ز کو یونہی لگتا میں سب سے الگ رہتی ھوں بابا میری ساری کلاس سے فرینڈ شپ ھے بس میں بہت کلوز فرینڈ نہیں بناتی بابا مجھے اپنا آپ شئیر کرنا پسند نہیں ہے بس اس لیے آپنے مجھے اتناسٹرونگ بنایا ہے بابا میں تنہا ہوکر بھی تنہا نہیں ہوتی آپ ہی تو کہتے ہیں اللہ ہر دم ساتھ ہوتا ہے...اس سے دوستی رکھو وہ بے اعتبار نہیں کرتا اسے ہر دکھ بتاؤ وہ کبھی بکھرنے نہیں دیتا اسے ھر راز بتا دوہ کبھی راز افشاں نہیں کرتا بس میں بھی اسے فرینڈ بنالیا فاسٹ فرینڈ جو بھی بے وفائی نہیں کرتا آخری سانس تک ساتھ نبھاتا ہے اب کی بار شمائل صاحب نہ صرف حیران تھے بلکہ بے انتہا خوش بھی کہ انکی تربیت انکی محبت رنگ لائی تھی اسنے وہی کچھ سمجھا سیکھا جو انہوں نے بتایا سیکھایا اور اسنے نہ صرف سمجھا بلکہ عمل بھی کیا انہوں نے اٹھ کر اسے سینے سے لگا لیا تھا آئی ایم پراؤڈ آف یو مائی ڈئیر اینڈ آئی لویو ... 

 آئی لو یوٹو با با .. اسنے بھی انہیں پیار کیا تھا۔ انہیں بے ساختہ بر یر یاد آیا تھا انکی آنکھیں نم ہو گئی تھیں انہوں نے فورا آنکھیں صاف کی تھیں 

کہیں گڑیا نہ دیکھ لے ورنہ وہ بھی رونے بیٹھ جاتی چلو بیٹھو کھانا کھاؤ شاباش.. انہوں نے کھانے کی طرف دھیان کیا تھا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا

میری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھی

تجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتا 🥀

میں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہے 

میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے 

میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے 

میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے 🥀

میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی 

میں تو وہ تھا جسے یاد نہیں کرتا کوئی 🥀

                                   ★★★

ایسا ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس

دل نے جھیلے ہیں محبت میں وہ آزار کہ بس


ایک لمحے میں زمانے میرے ہاتھوں سے گئے

اس قدرتیز ہوئی وقت کی رفتار کہ بس


تو کبھی رکھ کے ہمیں دیکھ تو بازار کے بیچ

اس طرح ٹوٹ کے آئیں گے خریدار کہ بس


کل بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑے تھے دونوں

درمیان آج بھی پڑتی ہے وہ دیوار کہ بس


یہ تو اک ضد ہے کہ محسن میں شکایت نہ کروں

ورنہ شکوے تو ہیں اتنے میرے یار کہ بس..

سعد ان احمد تم نے کتنی بار محبت کی ہے زندگی میں ؟؟؟ ساتھ بیٹھے دوست نے سوال کیا تھاوہ سب کھل کھلا کر ہنس پڑے تھے یہ سات دوست جن میں سعد سحر، روحی ، ھارون، امبرین ، نتاشہ اور جواد اور شہیر تھے اس وقت پارس حسن کے لاؤنج میں بیٹھے باتوں میں مگن تھے انکے ساتھ نور لیلی اور مریم بھی بیٹھی تھیں تبھی ہارون نے سوال کیا تھا

 اک بار اور وہ تم سب جانتے ھو ۔۔۔

سعد نےاپنے ساتھ صوفے پر بیٹھی سحر کو بازو کے حصار میں لیا تھا سحر مسکرا دی تھی

 اور جو باقی سب سے کی وہ ؟ اسنے پھر سوال داغا تھا یا رو ہ سب ٹائم پاس تھا دوستی تھی انجوائمنٹ محبت تھوڑی تھی۔ سعدان نے اسے گھور کر جواب دیا تھا اور جن سے وعدے کئے تھے خواب دیکھائے تھے وہ کیا تھا؟؟؟

 وہ بھی پورا ڈھیٹ تھا سوال کرنے سے باز نہیں آرہا تھا۔ وہ بھی سب کھیل تماشہ تھا اور کچھ بھی نہیں ان سب کو خود سمجھ لینا چاھئیے تھا ۔


دانت پیسے تھے اور جنہوں نے سچ سمجھا تھا تم پہ جان واری تھی زندگی سے عزیز جانا تھاوہ؟؟؟ 

سعدان نے جوتا اٹھالیا تھا وہ سب پاگل تھے اک نمبر کے پاگل بے وقوف ٹھر کی آئی سمجھ؟ ؟ ؟ 

میری جانب سے وہ جائیں بھاڑ میں 

سعد ان کے جواب پر ھارون کا قہقہہ بے ساختہ تھا تبھی پارس ڈور دھکیل کے اندر داخل ہوئی تھی اسے دیکھ کے سعد چونکا تھا

 نور مریم اور بیلا نے بھی پلٹ کے دیکھا تھا وہ شاید کہیں جارہی تھی ۔ وہ سب کو نظر انداز کرتی آگے بڑھی تھی جب سحر نے آواز دے کے روک لیا تھا پارس .. !!! جی اسے بھر کی آواز پہ پلٹ سے نہیں دیکھا تھا بس رک گئی تھی


میری برتھ ڈے ہے آئیں نا آپ بھی سحر نے آفر دی تھی ھم کب سے آپکے لئے بیٹھے تھے مجھے کام سے جانا ھے آپ لوگ انجوائے کریں اسنے ٹالنا چاہا تھا سحر نے آگے بڑھ کر پارس کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے پلیز . میں ان ہی لوگوں سے التجاء کرتی ھوں جو زندگی سے بھی عزیز ھوں اور آپ مجھے بہت عزیز ھو گئی ھیں پلیز میری خوشی کے لئے اسنے لجاجت سے کہا تھا پارس بے بس سی ہوکر صوفے پہ آ بیٹھی تھی 


سحرنے تالیوں کی گونج میں کیک کا ٹا تھا اور سب سے پہلے کیک پارس کو کھلایا تھا پھر سعد اور پھر سبکو نور مریم لیلی سمیت سب نے اسے گفٹ دیئے تھے سوری سحر مجھے علم نہیں تھاور نہ میں گفٹ ضرور لیتی. بٹ انشاء اللہ میں واپسی پہ لیتی آؤں گی پارس نے معذرت کی تھی


انس او کے پارس آپ میری برتھ ڈے میں شریک ھو ئیں یہ سب سے بڑا گفٹ ھے ریلی تھنکس آلاٹ

 وہ دل سے ممنون نظر آرھی تھی .. نہیں ایسے تو نہیں چلتا نا۔۔۔۔


اچھا میں نے دیکھا آپکے پاس گٹار ھے اور آپ بجاتی بھی ہیں۔ ہمیں بھی سنادیں کچھ ۔یہی آپکا گفٹ ہوگا۔سحر کی فرمائش پر وہ گڑ بڑائی تھی


وہ تو عرصہ ہوا نہیں بجایا بھول چکا ھے اسنے بہانہ گڑا تھا مگر وہ پیچھے پڑگئی تھی۔ نور بھی گٹار اٹھالائی ، نہ نہ کرتے بھی بجانا پڑ گیا تھا


جیسے ہی دھن شروع ھوئی تھی سعد ان چونک اٹھا تھا اک سماع سابند ھنے لگا تھا ضبط سے اسکی آنکھیں پہلے ہی لال تھیں

سب دم بخود ہو گئے تھے آواز تھی یا سر تھا جادہ تھا

اب کیا سوچیںکیا ہونا ہے

 جو ہوگا اچھا ہوگا

پہلے سوچا ہوتا پاگل

اب رونے سے کیا ہوگا

اب کیا سوچیں۔۔۔


یار سے کہہ کے غم دل کا


خوش تو ھو لیکن تم یہ کیا جانو


تم دل کا رونا روتے تھے


وہ دل میں ہنستا ھوگا


اب کیا سوچیں کیا ھوتا ہے۔


آج کسی نے دل تو ڑا ہے


تو ہم کو جیسے دھیان آیا ...


ضبط کی حد ھو گئی تھی اسے آنکھیں میچ کر آ نسو ضبط کرنے چاہے تھے نور اور مریم کو پتہ لگ گیا تھاوہ رورہی ہے مگر دل میں ۔۔۔۔۔

دروازے سے داخل ھوتے سمیر اور ٹیپو بھی رک چکے تھے


جسکا دل ہم نے توڑا تھا


وہ جانے کیسا ہوگا


اب کیا سوچیں کیا ھونا ہے


جوھو گا اچھا ھوگا.


اسنے گنار چھوڑ کر آنکھوں کوسختی سے دبایا تھا۔ پھر آنکھیں کھول لیں تھیں آنسو ضبط ھو گئے تھے


سعد اپنی جگہ ساکت ھو چکا تھا


میرے کچھ دن مجھکو دے دو


باقی سارے دن لوگو


جیسا جیسا تم کہتے ہو سب 

ویسا ویسا ھوگا

 اب کیا سوچیں کیا ھونا ہے جو ھو گا اچھا ہوگا

 پہلے سوچا ہوتا پاگل اب رونے سے کیا ھوگا ۔۔ 

اس سے پہلے کہ بھرم ٹوٹتا ٹیپو نے پکا ر لیا تھا پارس گٹار پھینک کر اسکے پیچھے بھاگی تھی جو خود جا کر گیراج میں گاڑی پیچھے جا رکا تھا۔ پارس جا کر گاڑی سے ٹیک لگا کر آنکھیں نیچے کئیےکھڑی ھوگئی تھی ٹیپو نے پارس کا ہاتھ ہاتھ میں لے لیا تھا پارس آنکھیں کھول کر اسے حیرت سے تکنے لگی تھی۔

 یونو یہ کیا ھو ا؟؟؟ ھارون نے سعد کے کان میں سرگوشی کی تھی سعد نے مڑ کر اسے دیکھا تھا ھارون نے جو کہا تھا سعدان اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا تھا۔

"خود کو ترتیب دیا آخر ازسر نو"

"تیرا انکار زندگی میں بڑے کام آیا"


♡ہاں میں مخاطب تمہی سے ہوں ♡

                                     %☆%☆%

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﺑﮍﺍ ﻓﺮﻕ ﺍٓ ﮔﯿﺎ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺧﻔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻢ

ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻃﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻢ

ہاں جی کیا بنا کا م کا ؟؟؟ اسنے ادھر سے فون ریسیو ھوتے ہی سوال کیا تھا ہو گیا جتنی معلومات تھی سب پیپر تیار ھو گئے ہیں.


آہاں ویری گڈ. وہ اپنی کامیابی پر مسروری ہورہی تھی اسکا کوئی ریلٹیو کوئی فیملی ممبر تو نہیں ھے ؟؟؟ نہیں جہاں تک میرا خیال ہے وہ اکیلی بہن تھی باپ تھا جو کافی عرصہ پہلے روڈ ایکسڈنٹ میں شاید مرگیا تھا اسکاٹ لینڈ اور تو کبھی کوئی نہیں دیکھا فون کے اسپیکر سے آواز ابھری تھی، تو بہت ہی اچھا ھے۔ .. اب دیکھتے ھیں اس اکٹر کی ماری کو سارا غرور طنطنہ خاک میں نہ ملا دیا تو کہنا اس کا وقار اکثر اسکی شخصیت سب مٹی کر دوں گی لہجہ ز ہر آلود تھا

ها ها ها میرے بھی بڑے حساب نکلتے ھیں اسکی طرف. کچھ میرے لیے بھی بچادینا۔

 فون سے آتی آواز سے دونوں کھل کھلا کر ہنسے تھے.. اور تقدیر کھڑی دونوں پر افسوس کرر ہی تھی کیسے ظالم لوگ تھے... 

کبھی جو مثل شہد تھے

زہر لگتے ہیں اب وہ لوگ   


                                 ☆☆ ☆☆


‏جیڑے محرم راز حقیقتاں دے

او راز حقیقت کھول دے نئی 


جہناں نئیں ویکھیا او کرن گلاں

جیناں ویکھ لیا او تے بولدے نئیں ...


وقت کا کام ہے گزرنا سو گزرتا گیا تھا گڑیا ایف ایس سی کر چکی تھی شمائل صاحب اسے کہا تھا اسکاٹ لینڈ چلتے ہیں وہاں پڑھنا مگر وہ نہیں مانی تھی شمائل صاحب کو اندازہ ھو چکا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے مگر کیا کرتے وہ ہر بات مان لیتی تھی ہر بات حکم کا درجہ رکھتی تھی مگر اک بات جو اسے بے بس کرتی تھی وہ تھی اسکی آنکھوں کے سامنے ھوئی ماں کی موت ... جیسے آج تک ماضی کا اک اک پل بھولنے نہ دیا تھا جب وہ غصے میں آتی تھی تو ہر بات بھول جاتی تھی اتنی تلخ ہوتی تھی کہ شائل صاحب بھی چپ ھو جاتے تھے انہیں دنوں رابرٹ انکل بھی پاکستان آگئے تھے انہوں نے پاکستان میں اپنی کسی نئی فیکٹری کا کام شروع کیا تھا پہلے جب بھی آتے اکیلے ہوتے تھے اب کی بار ان کا بیٹا اور پندر ہ رکنی ٹیم بھی ساتھ تھی 

پارس کے لیے یہ بڑی دلچسپ چیز تھی کیونکہ باپ بیٹا اور انکی ٹیم نان مسلم تھے مگر اپنے مذہب کے پکے پابند تھے وہ ہر کام سے پہلے انجیل کی آیات دیکھتے تھے اور اسی کے مطابق عمل پیرا ھوتے تھے اسکے تمام ممبر انکی ہر بات حکم سمجھ کر مانتے تھے پارس نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تھی تو انہوں نے بتایا انکی کامیابی اور دنیا میں اتنا نا م ہونے کی وجہ انجیل مقدس کی آیات ہیں۔

 پارس کو اشتیاق ہو چلا تھا کہ آخر ایسا کیا ھے اس میں جو یہ بندہ اتنا پر سکون اور مطمئن ہے اسی شوق میں پارس نے ان سے انجیل پڑھنے کو مانگ لی تھی۔ رابرٹ صاحب بڑے خوش تھے کہ کسی مسلم نے انکے مذہب میں دلچسپی لی ہے تو انکی سوچ دور تک پرواز کرنے لگی تھی

ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣُﻼّﮞ ﻣﺎﻥ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺩﺍ

ﺍﺳﺎﮞ سَچیاں ﺩﮮ ﻧﺎﻝ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺘﺎ

ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺷﻮﻕ ﺍﮮ ﺟﻨﺖ ﺟﺎﻭﻥ ﺩﺍ

ﺍﺳﺎﮞ ﺍﮐﮭﯿﺎﮞ ﻧﺎﻝ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﯿﺘﺎ

ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻧﺒﺰﺍﮞ ﻧﻮﮞ

ﺳﺎﻧﻮﮞ ﮨﺠﺮ ﺩﮮﻣﺮﺽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﯿﺘﺎ

ﺍﺳﺎﮞ ﻋﺸﻖ ﺩﺍ ﮐﻠﻤﮧ ﺟﺪ ﭘﮍﮬﯿﺎ

ﺳﺎﻧﻮﮞ ﺯﺍﮨﺪﺍﮞ ﭘﮭﮍ ﺳﻨﮕﺴﺎﺭ ﮐﯿﺘﺎ

ﺍﺳﺎﮞ ﻋﺸﻖ ﺩﯼ ﺳﻮﻟﯽ ﭼﮍﮪ ﺑﯿﭩﮭﮯ

ﻧﺌﯿﮟ ﻏﯿﺮﺍﮞ ﻧﺎﻝ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺘﺎ

ﺳﺎﮈﯼ ﮐﮭﯿﮍﮮ ﻧﺎﻝ ﻧﺌﯿﮟ ﻧﺒﮭﻨﯽ

ﺍﺳﺎﮞ ﺭﺍﻧﺠﮭﮯ ﻧﺎﻝ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺘﺎ

ﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﮐﯽؔ ﻣﺮﻧﮯﺩﺍ

ﺍﻭﮨﺪﮮ ﻣﻨﮕﺘﯿﺎﮞ ﻭﭺ ُﺷﻤﺎﺭ ﮐﯿﺘﺎ

                                  %☆☆☆%

دِلِ گمشدہ! کبھی مل ذرا...

کسی خشک خاک کے ڈھیر پر...

یا کسی مکاں کی منڈیر پر...


دِلِ گمشدہ! کبھی مِل ذرا...

جہاں لوگ ہوں، اُسے چھوڑ کر...

کسی راہ پر، کسی موڑ پر...


دِلِ گمشدہ! کبھی مِل ذرا...

مجھے وقت دے، مری بات سُن!

مری حالتوں کو تو دیکھ لے!

مجھے اپنا حال بتا کبھی!

کبھی پاس آ! کبھی مِل سہی!

مرا حال پوچھ! بتا مجھے! 

مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟؟؟

تُو جنون ساز بھی خود بنا...

مری وجہِ عشق یقیں ترا...

مِلا یار بھی تو، ترے سبب...

وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟؟؟


دِلِ گمشدہ؟؟؟ یہ وفا ہے کیا؟؟؟

اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟؟؟

اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟؟؟

یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟؟


" پارس حسن آفریدی ڈاٹر آف شمائل حسن آفریدی ایف ایس سی پری میڈیکل .. "ساری کلاس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔ اسکائی بلیو اینڈ وائٹ شارٹ شرٹ، وائٹ جینز، اسکائی بلیو اور وائٹ دوپٹہ جو گلے میں تین چار بل دے کے لٹکا یا گیا تھا، آگے سے تھوڑے بال چھوڑ کر سر کے اوپر اسکائی بلیو چھوٹا سا کیچر لگایا گیا تھا، پھر سب بالوں کو وائٹ پونی سے باندھا گیا تھا، شولڈر سے کچھ نیچے آتے بلیک سلکی بال، کانوں میں اسکائی بلیو اور وائٹ چھوٹے سے ٹاپس تھے، گلے میں ان سے میچنگ نیکلس تھا، بازو پہ بندھی گھڑی بھی اسکائی بلیو اور وائٹ تھی ، پاؤں میں پہنی چپل بھی اسکائی بلیو اور وائٹ تھی ... مطلب اند از اتنا شاہانہ تھا کہ استاد بھی سوچ کر بول رہا تھا۔


"مارکس ۔۔۔۔؟؟؟؟ ون تھاؤ زینڈ اینڈ تھرٹی ٹو اب کی بار صیح معنوں میں جھٹکالگا تھا پوری کلاس کوو د پروفیسر جمشید۔

 " آریو شیور ؟؟" پروفیسر بے یقین تھے۔ "میرے بابا نے جھوٹ بولنا نہیں سکھایا۔ " اس نے مارکس شیٹ سر کے سامنے رکھ دی۔ جواب ہی ایسا آیا تھا کہ سر چپ سے ہو گئے تھے .. مارکس شیٹ پہ نمبر 1032 ھی تھے۔ سر متاثر ہو گئے تھے۔ "پھر آپ میڈیکل لائن میں کیوں نہیں گئیں۔ شمائل صاحب کی بیٹی ہیں آپ کو تو باہر جا کر پڑھنا چاہیے تھا۔" ہر کسی کا ایم ہوتا ہے اور میر ایم مجھے اس لائن میں لایا، مجھے کسی کو سولی پہ لٹکا ہے اور خود اپنے ہاتھوں سے لٹکانا ہے۔ " اس نے ہاتھ سامنے کر کے کہا۔ حیرت در حیرت لڑکی عجیب ہی نہیں عجیب تر تھی۔ " اس سے پہلے مجھے کیس لڑنا ہے، دلائل دینے ہیں، گواہ پیش کرنے ہیں، پروف چاہئیں اور وہ میں بذات خودسب ہوں اور مجھے خود سب کرنا ہے اس لئیے ...


"کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ ٹائم ویسٹ کریں گی ؟؟؟" "سر آپ کو نہیں لگتا اپنا ایم بھول جائیں تولا ئف ویسٹ ہو جاتی ہے۔ " اسنے اسی انداز میں جواب دیا تھا

مگر آپ کوئی اسٹرونگ، کوئی پاور فل ایم چوز کر سکتی ہیں۔ " "سر انسان کمہار ہو تولو با کیسے کوٹے ؟؟؟ "کل اس کے چہروں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ سر بھی بے ساختہ ہنسے تھے۔ " عجیب ہو پارس حسن .... " انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ دیا۔


" چلیں جی ! سب سے انٹر و ہو چکا، با قاعدہ کلاس کل سے ہو گی۔ " سر چلے گئے اور وہ اپنی چیزیں اٹھاتی باہر نکل آئی۔ بہت سے اسٹوڈنٹ جو دوستی کی آفر دینے کا سوچے بیٹھے تھے ، دیکھتے رہ گئے۔ آج یو نیورسٹی میں ایل ایل بی کی کلاس کا پہلا دن تھاوہ بالکل بھی نہ نروس تھی نہ پریشان، بلکہ بڑے پر اعتماد سے اکیلی ہر طرف گھوم رہی تھی۔ اس نے بڑے مزے سے اکیلے ہی ہوری یونیورسٹی گھوم لی تھی .... اگلے ہی چند دنوں میں اس کی بے نیازی اور مغروریت کے چرچے پوری یونیورسٹی میں پھیل گئے.. مگر اسے غرض تھی تو پڑھائی سے ، باقی وہ نہ کسی سے بات کرتی نہ کچھ سنتی، اس نے کسی لڑکی کو بھی دوست نہیں بنایا تھا۔ کے سوا وہ کچھ بھی یاد نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ اسے بس اپنا مقصد یا د تھا اور اس کے سوا وہ کچھ بھی یاد نہیں رکھنا چاہتی تھی۔

                            ☆☆☆☆☆

پھر یوں ہوا محبت ہار دی ہم نے

پھر یوں ہوا احساس بھی تمہارا نہیں رہا

پھر یوں ہوا دل سے اتر گیا وہ شخص

پھر یوں ہوا جان سے پیارا نہیں رہا


" تمہیں کیوں لگا کہ وہ گڑیا ھے ؟؟؟ " ہارون اور رخما دونوں حیران تھے اور ساکت بھی، ایک گڑیا کا یوں سامنے آجانا اور پھر شمائل حسن آفریدی کی بیٹی ہونے کا دعوی .. شمائل آفریدی نہ صرف معروف بزنس مین تھے بلکہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے اور بڑے 

عادل انصاف پسند حج بھی رہ چکے تھے ، ان سے کون واقف نہیں تھا ۔ بھائی ایم شیور ... میں دھو کہ نہیں کھا سکتی وہ گڑیا تھی، اور سب سے بڑی پہچان اس کی انگلی میں وہ نفیس سا چھلا ہے جس پہ زرمینے حسن لکھا تھا، بہت چھوٹا مگر اس نے اپنی چھوٹی انگلی پر آگے پہن رکھا تھا، مجھے آج بھی یاد ہے وہ انکل نے زرمینے آنٹی کو دیا تھا اور بعد میں وہ گڑیا کے پاس تھا۔ " ثمرہ اپنی بات پر اڑی تھی ۔ نہیں یار جب اس کے پیپروں پہ شمائل حسن آفریدی لکھاہے توپھر وہ گڑیا نہیں ہوسکتی۔ میں نہیں مانتا صرف چھلاہونا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، صرف چھلے کی بناء پر ہم اسے گڑیا حسن نہیں مان سکتے اور پھر اتنے بڑے آدمی کی اولاد ۔۔۔۔نہ یار لا وارث نہیں ہو سکتی۔" وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا ۔

 " بالکل ثمرہ ! ہارون ٹھیک کہہ رہا ہے"۔


مگر بھائی ! اس نے یہ بات کیوں کی کہ مجھے کسی کو سولی پر لٹکانا ہے اور ان ہاتھوں سے لٹکانا ہے یہ میرا ایم ہے۔ اب کی بار وہ حقیقت چونک اٹھے تھے۔


" تم نے اس سے دوستی کرنی تھی ، بات کرنی تھی، یوں باتوں باتوں میں جان لیتا ہے بندہ۔ " ہارون نے مشورہ دیا۔ بھائی وہ کسی سے بات نہیں کرتی ۔اکڑ والی اور بڑی مغرور ہے۔اپنے آپ میں اپنی ذات میں مقید رہنے والی ۔۔

ہہہممم چلو دیکھتے ہیں. . پتہ کر تاہوں میں اس کا، تم پریشان مت ہو۔" 

                                %☆☆☆☆

رابرٹ شلر اپنے پندرہ اراکین اور بیٹے کے ساتھ چرچ گیا تھا ابھی واپس لوٹا تھا، پارس موسیقی کی آواز پہ باہر نکلی تھی۔

" وہ عزم و ہمت کے دھنی ہیں

وہ شاہینوں کی طرح

اپنی پرواز کا آغاز کرتے ہیں

اور بلندیوں تک جا پہنچتے ہیں

بلند پروازی

ان کا شغف

اور ان کا مقصد حیات بن جاتا ہے

اور کامیابی و فتح یابی

ان کا طرہ امتیاز ہوتا ہے "

خاص اسکاٹش گیلک میں اک سر ، اک آواز ، وہ کھڑے پڑھ رہے تھے ، چو نکہ پارس اسکاٹ لینڈ جاتی رہتی تھی سو فوراً سمجھ گئی تھی

الفاظ کیا تھے ؟ مگر اتنی عقیدت اور احترام سے کیوں ؟ کیا خاصیت تھی ؟ حالانکہ پارس کو یہ عام سے الفاظ لگے تھے۔

"انکل ! یہ الفاظ کیسے تھے ؟؟ " پارس نے الجھن دور کرنے کے لئے پوچھا تھا۔

" بیٹا یہ نغمہ یسوع ہے ، اسے بڑی عقیدت اور احترام سے پڑھا جاتا ہے ، دیکھا نہیں کتنا سوز اور کتنا سکون تھا۔ " وہ بڑے جذ ب سے

مسکرا کر بولے۔

" آپ نے انجیل مقدس پڑھ لی ہے؟؟؟" انہوں نے کچھ سوچ کر سوال کیا۔

" جی انکل کل ہی ساری پڑھ لی تھی ۔ ”

" انکل! اگر میں آپ کو کچھ سناؤں تو ؟ جس میں ان الفاظ سے زیادہ سکون مٹھاس اور عقیدت ہو تو ؟ ؟ " پارس کچھ دیر بعد بولی۔

" اپنا مذ ہب بتانا چاہ رہی ہیں ؟؟ " پارس ان کے اندازے یہ حیران تھی۔

" انکل !جب میں نے آپ کی بک پڑھ لی ہے ، تو آپ سن لیں گے تو کیا ہو جاۓ گا ؟؟؟“

" مم چلوسناؤ آپ..

" اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے۔"

کچھ آواز کا جادو، کچھ لفظوں کی تاثیر تھی ، سبھی متوجہ ہوئے تھے۔

"جورب دو عالم کا محبوب یگانہ ہے


آؤ در زھرہ پر پھیلاۓ ہوۓ دامن

ہے نسل کر یموں کی، لجپال گھرانہ ہے "

رابرٹ سر دھننے لگے تھے ، انہیں حقیقتا مزا آرہا تھا۔

"سوبار اگر تو بہ ٹوٹی بھی حیرت کیا

بخشش کی روایت میں تو یہ تو بہانہ ہے

محروم کرم اس کو رکھے نہ سر محشر میں

جیسا ہے نصیر آخر سائل تو پر اتاہے ...

عزت سے مر جائیں یوں نام محمد پر

کہ ہم نے تو یوں بھی اک دن دنیا سے تو


اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے۔ " 

"واوز بر دست کیابات ہے .... وہ رابرٹ انکل کی بات پر ھولے سے مسکرادی تھی۔

" انکل! یہ نعت ہے ، میرے نبی کی تعریف، اس کے ختم ہونے پر ہم سبحان اللہ کہتے ہیں " ۔۔

او... سوری سبحان اللہ .... آواز بھی بیسٹ اور جو پڑھاوہ بھی، لطف آیاہے ، سر ور سا آگیا۔ خالص گیلک زبان بول رہے تھے وہ اور پارس مسکرادی تھی۔پہلا تیر نشانے پہ لگا تھا۔

                                  ☆☆☆




" آؤ کھانا کھاؤ گی ۔ ؟؟" کھانے کی ٹیبل کی طرف بڑھتے انہوں نے دعوت دی۔

"نو تھینکس انکل! آپ کھائیں ، میں روزے سے ہوں۔" پارس کے جواب پر وہ چونک کر مڑے۔

"اتنی گرمی میں ... افففف ... کوئی ضروری تھا؟”

نہیں تو... بس عادت سی بن گئی ہے .... کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑ تا ہے نا۔۔۔

" کیا مطلب ؟؟؟" وہ نا سمجھی سے اسے تکنے لگے۔

"کھانا ٹھنڈاہو رہا ہے۔" پار س نے ان کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کروائی تھی۔اور خود اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔اور وہ کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔


وہ آج تین دن بعد یونیورسٹی آئی تھی۔مگر یہاں آکر پتہ چلا یونیورسٹی میں دو تنظیموں کے درمیان جھگڑا ہونے کے باعث دو دن سے یونیورسٹی بند تھی۔اسکی کسی سے دوستی بھی نہیں تھی جو علم ہوتا,آج بھی آتے ہی کوئی جھگڑا ہوگیا تھا پارس حس لائبریری میں ....

تھی ، جب شور اور فائرنگ کی آواز پہ وہ باہر آئی ، تمام اسٹوڈنٹس ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔شاید پھر سے کچھ ہوگیا تھا۔پارس بھی 

گھبر اکر لان کی جانب آگئ تھی، جہاں کچھ لڑ کے دائرے کی صورت میں کھڑے تھے ان کے پیچھے ایک لڑکا کھڑا تھا جسکے ہاتھ پیچھے کی  

طرف بندھے تھے ، چہرہ ضبط سے لال ہو رہا تھا۔ پارس حیرانگی سے دیکھنے لگی پھر تھوڑی آگے بڑھی۔

" اب بھی اچھلو .. بڑے شاہ رخ او سیلمان خان بن رہے تھے ، اب بھی بن کے دکھاؤ ہیرو... ان دس بارہ لڑکوں میں سے اک کے سر پر بیٹ تھا، وا ئٹ شرٹ

پہنے جس پہ کنگ لکھا تھا غصے سے دھاڑا ۔۔۔۔

" تجھے کہا تھا ہم لوگوں کے بیچ مت آنا، یہ ہمارامسئلہ تھا، تم نے اچھا نہیں کیا "..

تم لوگ غلط تھے زیادتی کر رہے تھے ، میں زیادتی بر داشت نہیں کرتا... تم لوگ یہاں پڑھنے آتے ہو ... اور تعلیم یہی سکھاتی ہے

جو سلوک تم اپنے لئے برداشت نہیں کرتے کسی سے بھی مت کرو.. محض دکھ اور حسد کی وجہ سے تم لوگ اس کو مارنا چاہ رہے ہو ،

مجھے زیادتی گئی سوبول پڑا۔ " وہ صاف گوئی سے بولا۔

.... " اس لڑکے نے پینٹ سے بیلٹ نکالتے ہوۓ


کہا... لبوں پہ مکار سی مسکراہٹ تھی۔

" یہ کیا ہے سب ؟ اور پوری یونیور سٹی کھڑی ہے چپ، کیوں؟ پارس نے پلٹ کر کلاس فیلو سے پوچھا۔

" ہمدردی ہی کی تھی اس نے بھی ، کل ایک بے گناہ کی جان بچائی تھی ... حال نہیں دیکھ رہی اس کا... بہت پیٹا اسے اور آج

پھر۔۔۔۔ لڑکی دکھ سے بولی تھی۔

"مگر یہاں ہر کوئی اپنی جان کی فکر میں ہے ، ہمدردی مہنگی پڑتی ہے ... یہ کمینے اس بیچارے کو ہسپتال سے اس حالت میں اٹھالاۓ

ہیں... افسوس ہم کچھ نہیں کر سکتے . .. " دوسری لڑکی بھی افسوس سے سر نفی میں ہلانے لگی۔

"تووی سی . پروفیسر ... سب کدھر ہیں؟؟؟ پولیس کو بلوالیں۔ ” پارس ابھی بھی حیران تھی۔

"الفاف مس پارس موت سے کون محبت کر تا ہے .. زندگی سب کو عزیز ہوی ہے۔ ویسے بھی دولڑ کی ابھی بات کر رہی تھی

جب چیخ کی آواز آئی۔ پارس سمیت سب نے دیکھا۔ اس لڑکے نے بیلٹ گھما کے ماراتھا دو سال کا دوہرا ہو گیا تھا، ایک ساتھی نے

ہوائی فائرنگ کی تھی سبھی سٹوڈنٹس بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

" افتقف یہ تو سراسر ظلم ہے اور پارس حسن ظلم کے خلاف ہے۔ ” پارس کی آواز یہ کئی اسٹوڈنٹس پلٹ کر دیکھنے لگے۔ پارس نے بیگ

اور بکس کھینکی تھیں اور جینز سے لٹکتا پسٹل نکال لیا تھا، اس نے فائر کیا، سبھی اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ، پارس چمپ لگا کر لڑکےO

کے سامنے جا کھٹری ہوئی، سب حیرت زدہ تھے ، جاتے بھی رک گئے تھے۔

"اے لڑ کی ! کون ہو تم ؟؟؟ ہٹ جاؤ ورنہ .. گرپ لیڈر نے انگلی اٹھا کر وارن کیا۔

ورند.....؟؟؟ ورنہ کیا؟ " پارس اس کے قریب آگئی۔

" میں اپنی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دیتی ہوں اور آنکھ نکال دیتی ہوں۔ اس کی انگلی پکڑ کر پورابازو مروڑ ڈالا، پھر کھینچ کر مکا آنکھ پر

مارا۔ پیچھے سے ساتھی آگے بڑھا، پارس نے بناء دیکھے ٹانگ پیچھے کی طرف گھمائی تھی ، وہ سر کے بل زمین پہ تھا ۔

پارس لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پہ ہوئی۔

پارس پسٹل ان پہ تان کر اس کے بندھے ہاتھ کھولنے لگی۔

" میر انام پارس حسن آفریدی ہے ذہن نشین کر لو.... " پارس نے ہاتھ سے رسی گراتے کہا۔

" مگر نہیں ، ایسے کیسے ہو گا ذہن نشین ... "پارس آگے بڑھی اور بری طرح پیٹ ڈالا ان کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی ہوا کیا ہے ،

سب سانس روکے کھڑے تھے کہ کس فلم کی شوٹنگ ہے

یہ انوکھی داستان ہے ہیروئین ہیرو کو بچارہی ہے


گروپ لیڈر زمین پر گرا تھا ۔

پارس نے اس کے بازو پر پاؤں رکھ لیا۔

" کیانام بتایا میں نے ؟؟؟ 

پارس حسن آفریدی .... اب یادر ہے گانا؟؟؟ " پارس نے بھنوئیں اچکا کر بولی۔

" آج سے اس یونیورسٹی سے سب دنگے فساد ختم ... دوبارہ تمہاری شکایت نہ آئے ...ورنہ...... " پارس نے اس کے انداز میں انگلی اٹھا کر وارن کیا۔

ورنہ.... نام یاد ہے نا؟ پارس حسن آفریدی.... اور میری سوچ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں پہ تمہاری ختم ہوتی ہے...لگی سمجھ? وہ اسے ٹھوکر رسید کرتی مڑی تھی۔پسٹل اٹھا کر بیلٹ سے لٹکایا تھا اور لڑکے کو اشارہ کیا تھا۔وہ بت بنا اسکے پیچھے چل پڑا تھا۔

گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر بکس بیگ رکھے تھے، اسکے لئے فرنٹ ڈور کھولتی ڈرائیونگ سیٹ پر آگئی ...

سبھی اسٹوڈنٹس دم بخو د وہیں کھڑے رہ گئے تھے ، پارس اسے ہسپتال چھوڑ کر گھر کی طرف نکل پڑی.... بریر لاشاری نے چپ چاپ تماشہ دیکھا تھا، وہ تو عش عش کر اٹھا تھا، مگر تھینکس تک نہیں کہہ سکا تھا 


ان کی محفل میں نصیر ان کی تبسم کی قسم

دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا


                                      ☆☆☆

_تجھ سے ، کیا چیز قیمتی ھو گی؟؟_

_تُو تو پیارے !! میرا حبیب ھُوا_


_دو ھی با ذوق آدمی ھیں ، عدم_

_میں ھُوا , یا میرا رقیب ھُوا_




نور کھانا لگوارہی تھی جبھی وہ سب اندر داخل ہوۓ۔

ہارون نے حیرانی سے نور کو دیکھا، جو زمین پر دستر خوان بچھا کر کھانا کھا رہی تھی۔

" آجائیں آپ بھی سب ، کھانا تیار ہے۔ "نور انہیں دیکھ کر مسکرا کر بولی۔

" پارس نے کھانا کھاتا ہے ... وہ یو نہی نیچے کھانے کی عادی ہے ، اس لئے ایک ہی

جگہ سب کے لئیے لگا دیا۔نور نے تفصیل بتائی۔

" یہ کیا ہے سب ؟ " روحی سے بھی برداشت نہیں ہوا تھا۔

سب حیران پریشان تھے، مگر حیرت کا بڑا شاک لگا تھا جب ان سب کے لئے قورمہ ، بریانی اور کئی کھانے تھے اور پارس حسن بڑی

رغنت سے دوزانو بیٹھی روٹی، سالن اور پو دینے دہی کی چٹنی لئیے کھارہی تھی ... سب حیرت زدہ اسے تک رہے تھے مگر وہ کسی کی

طرف متوجہ نہ تھی۔

" عجیب بات ہے لیلی ! اتنے کھانے ہیں اور پارس سادہ کھانا کھار ہی ہے۔ سحر نے حیرانگی سے سرگوشی کی۔

” ہاں یہ سب کھانے مہمانوں کے واسطے ہیں باقی لوگوں کے واسطے .... مہمان خدا کی رحمت ہیں اور وہ کہتی ہے " میں اللہ کےسامنے جوابدہ ہو گی ان کے لئے اور خود کم کھاتی ہے ،اکثر وہ روزے سے ہوتی ہیں۔۔

" واہ ! کیا ہی نیک عورت ہے پھر تو ..... " شیر از حقیقتا اسسے متاثر ہواتھا، کیونکہ جب سے ادھر آیا تھا اس نے پارس حسن کے روپ میں ایک عظیم لڑکی دیکھی تھی ہر رنگ نرالا ہر روپ نیا......

جبکہ روحی ان سب کو دیکھ کر من ہی من میں مسکرارہی تھی ۔

یہ حقیقتا اتنی ہی چپ ، اپنے آپ میں مگن رہنے والی ہے یا ہم لوگوں کی وجہ سے ڈسٹرب ہے ؟ روحی کے انداز میں کچھ ایسا تھا، نہ صرف نور کے ساتھ لیلی بھی چو نک ان کی عادت ہی ایسی ہے، وہ کسی سے زیادہ فرینک نہیں ہو تیں، بس ٹیپو بھائی سے باتیں کرتیں ہیں ہر بات ... باقی کسی سے نہیں۔


نور کی بجائے لیلی نے جواب دیا، لیلی ذراسخت لہجے میں بولی تھی سب اسے تکنے لگے۔ روحی دانت پیس کے رہ گئی تھی ... ہارون مسکرارہا تھا جبکہ سعد ان سر جھکائے بیٹھا تھا۔ تبھی پارس اندر سے چھوٹا سا بیگ لئے نکلی، ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھی ...

جیسے ہی وہ نکلی نور اور لیلی بھی پیچھے بھاگی تھیں۔

کدھر جارہی ہو پارس? نور کی پکار پر اسنے پلٹ کردیکھا تھا

ابھی تو اسلام آباد جارہی ہوں، وہاں سے شاید اسکاٹ لینڈ جانا پڑے.. ویسے میری کوشش ہوگی پہلے اک چکر لگا کے جاؤں ادھر سے ، اگر نہ آسکی تو اپنا حیال رکھنا، کوئی بھی مسئلہ ہو، ٹیپو سمیر ہیں اور مجھے کال کر لینا.... اور جتنی جلدی ہو سکے ان مہمانوں کو فارغ کر دینا۔ "پارس نے ایک ہی سانس میں ساری ہدایات دی تھیں۔ وہ دونوں سر ہلاتی اس کے گلے سے جا لگیں، پارس ان سے ملتی نمرہ اور مریم کے پاس گئی ، ان سے مل کر چلی گئی تھی نور اور لیلی واپس کچن میں آگئیں۔ "کیا ہوا؟ کدھر گئیں پارس؟؟؟ "سحر نے کھانے سے نظر ہٹا کر ان کو دیکھتے پوچھا۔ اسکاٹ لینڈ چلی گئ۔ "نور سے پہلے لیلی بولی تھی... نجانے کیوں ایک دم اسے روحی سے نفرت ہونے لگی تھی، اب تو اور زہر لگ رہی تھی جب پارس کے جانے کا سن کر زیر لب مسکرارہی تھی ... لیلی اسے بغور اب نوٹ کرنے لگی تھی .... جبکہ وہ خود میں مگن اپنے پلان ترتیب دے رہی تھی

                                    ☆☆☆


"ہیلو بے بی ! کیوں اداس بیٹھی ہو ؟؟؟ " رابرٹ صاحب نے اسے لاؤنج میں اداس بیٹھے دیکھ کر اس سے سوال کیا۔


نہیں انکل ! پریشان نہیں ہوں ، کچھ سوچ رہی ہوں۔" وہ ہلکے سے مسکرائی۔ " اچھا تو کیا سوچا جارہا ہے ؟ " وہ اس کے پاس ہی دوسرے صوفے پر بیٹھ گئے۔ " میں سوچ رہی ہوں انکل! آپ کو جن لوگوں نے برابھلا کہا تھا اس دن اور آپ کے ساتھیوں کو بھی مارا تھا آپ نے ان کے خلاف تھانے میں کیس کیوں نہیں کیا ?بلکہ ان کو وضاحت دی تھی, دعا دی انکو سمجھایا تھا ۔۔۔کیوں? یونواس دور میں لوگ شرافت کو کمزوری جان لیتےہیں۔"


پارس اصل بات چھپا کر کچھ اور شروع کر چکی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے جب وہ بابا ساتھ برطانیہ گئی تھی اس نے دیکھا تھا رابرٹ انکل اپنی پند دور کنی ٹیم کو کچھ ہدایت دے رہے تھے ۔ وائٹ شرٹ پہنے جن کے شولڈر پر ایگل کے نشان بنے تھے اور دوسری طرف انہوں نے بیج لگارکھے تھے وہ سب ابھی نکلے ہی تھے دروازے سے کہ کچھ لوگ آگئے تھے جنہوں نے ان سب کو پیٹا تھا بیج اتار کر پھینک دیئے تھے۔ رابرٹ انکل کو دھکا دے کر دور گرا دیا تھا، اتنے غلیظ الفاظ استعمال کئیے تھے مگر رابرٹ انکل بر امانے بغیر اٹھ گئے تھے ساتھیوں کو اٹھا خود بیج لگائے تھے اور ان لوگوں کو نرمی سے کچھ سمجھایا تھا اور ہاتھ اٹھا کر دعا تھی، پھر نجانے کیا کہا تھا وہ چپ چاپ پلٹ گئے تھے ، ابھی یک دم پارس کو وہ بات یاد آئی تو اس نے بول دیا تھا۔ " اووووو۔۔۔۔۔انہوں نے گہرا سانس کھینچا تھا۔

ایکچولی بیٹا جیسے آپ کے ملک میں بےروزگاری ہے اسی طرح وہاں بھی یہی حال ہے، نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے اداروں سے ڈگری لے کے دھکے کھا رہے ہیں ،انہوں نے کہیں سے میرا اور میری ٹیم کے بارے میں سنا تھا کہ ہم نوجوانوں کےلیئے جوہو سکے ، کرتے ہیں، روز گار بھی دیتے ہیں ، ساتھ ہی یسوع مسیع کا درس بھی۔ تو وہ لڑ رہے تھے کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو، کچھ نہیں کرتے تم لوگ۔۔۔۔

 تو کیا کرتا؟ 

میں بھی ان کے ساتھ وہی کرتا جو کافی عرصے سے وہ برداشت کر رہے تھے ، اس لیے میں نے سمجھایا، 

دعادی، اور پھر کارڈ دیا کہ بعد میں آکر ملنا " انہوں نے تفصیل بتائی۔۔۔

اووووو اچھا۔۔۔۔۔

" آپ تو کہہ رہی تھیں آپ نے انجیل پڑھ لی پوری ؟؟" پارس ان کے سوال پر گڑ بڑا گئی۔ " جی میں نے پڑھی تھی. اس نے سنجیدگی سے کہا۔ " نہیں ... نہیں پڑھی.. اگر پڑھی ہوتی تو آپ کو یہ سوال نہ کرنا پڑتا . اس کا جواب انجیل میں موجود تھا۔

وہ کیسے انجیل میں موجود تھا وہ حیران تھی۔ 

" خدا ان تمام لوگوں کی بخوبی حفاظت کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے جو اس سے گہرا تعلق اور لگاؤ رکھتے ہیں ”heb2:118) ...

 انہوں نے انجیل کی آیت پڑھی۔ " خدا ان لوگوں کی خاص حفاظت کرنے کی زبر دست قوت رکھتا ہے جو اس کی ذات پہ ایمان لاتے اور بھروسہ کرتے ہیں tim1:12)2) 

جن لوگوں کا اپنے خدا پر بھر پور یقین ہو تا ہے وہ کسی قدم پر لڑکھڑاتے نہیں، کیونکہ ان کا ایمان ہوتا ہے, خدا ہر جگہ ، ہر قدم پر ان کے ساتھ ہے.... اور جب میر اخد اساتھ تھا تو میں گھبراتا کیوں ؟؟" پارس لاجواب سی ہو گئی۔ " آپ پھر سے پڑھنا انجیل کو ، ابھی آپ کا ایمان کمزور ہے اور اب کی بار دل سے پڑھنا تو دیکھناہر سوال کا جواب تمہیں انجیل دے گی۔ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نصیحت کرتے نکل گئے تھے جبکہ وہ دم بخود بیٹھی تھی سر دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا، یک دم آنسو بہنے لگے تھے۔


الله... دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھایں آنسو بہ رہے تھے ، اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رہی تھی اپنی نا اہلی پر اپنے رب سے دوری پر ، سلمان ہو کر اپنے رب کو بلائے بھی تھی اور اک راہ نال تے جو غیرمسلم ہو کراللہ پر توکل کئیے ہوئے تھے۔

اففففففف

گلی گلی دھائی ہوے 

ایسا رکھ لیل نہار دا رنگ

رنگاں چوں اک رنگ چن لے

جیہڑا ہوے یار دے اعتبار دا رنگ

جو یار نہ ملے تے کدرے چین نہ آوے

سب توں وکھرا رکھ اپنے چین قرار دارنگ

اساں زندگی اوتھے مکا چھڈی اے

جتھے مکدا اے دلدار دا رنگ

تنیوں ہر پاسے اک ای رنگ نظر آوے

کالا چولا ہجر یار دا رنگ

                                 ☆☆☆

"کالا جوڑا ہجر دی رمز نو ٹال کڑے " 


اسی ہنجو پالن ہار کڑے 

جینوے ہجر دا روگ کوئی ٹال کڑے 

اسی تپدی ریت دے باسی ہاں 

ساکو پوچھ نا حال سوال کڑے 

اسی ہجر دی رمز نو سمجھ کے مریم 

کچھ اتھرو لے نئے پال کڑے 

بٙن پیری گھنگھرو بلے شاہ وانگ کڑے 

بن کنجری نچدے آ، پا پا ہجر دھمال کڑے  

نیری آوے ،جھکڑ جھلدے ، اکھیاں دے نے موتی ڈلدے 

کر دے آس کوئی ملن دی، بندی نت میں جال کڑے

تے شوق نیں جیون دا ۔

نیں لگدا کوئی مُل مرنے دا  

اے کالا چولا رنگ ہجر دا وانگ ستاوے سسی بن کے 

تھل وچ رلنا اوکھا کئی نیں نیں رلدا حسن جمال کڑے 

نا اس نوں ہن سمبھال کڑے اے تِیرا نت دا پیار کڑے 


"یار تجھے ایک کام کہا تھا تجھ سے وہ بھی نہیں ہوا .... ہارون بر ساتھ سعد پہ ... اونو یار مجھے بالکل یاد نہیں رہا، ورنہ تو جانتا ہے ایسے کام میں میں دیر نہیں کرتا.. بے فکر رہ میں کل ہی پتہ کر لیتا ہوں، بلکہ ڈائریکٹ ملاقات سہی .... "کل کیوں ؟ آج ابھی کیوں نہیں?

 ہارون کو زیادہ ہی جلدی تھی کچھ ۔ ؟ وہ حیران تھا۔ "

ابھی کیسے? میں جانتا نہیں کچھ, دیکھا نہیں, ملا نہیں, نمبر نہیں تو کیسے کروں? 

میں بتاتا ہوں سب، جو کرنا ہے .... ہارون اسے سارا پلان سمجھانے لگا۔ 


"اسلام علیکم !!!" پارس نے فون ریسیو کرتے ہی سلام کیا۔

 و علیکم اسلام .... 

پارس بات کر رہی ہیں ؟؟؟" " جی... آپ کون ؟؟؟"


میں حیدر بات کر رہا ہوں بر بر لاشاری کا دوست، کل جس طرح آپ نے اپنی پروا کئے بنا میرے دوست کی مدد کی، میں آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ وہ نہایت عاجزی سے مخاطب تھا۔ ھم نو پرابلم ، میں نے کوئی احسان نہیں کیا، اپنا فرض نبھایا ہے، انسان ہونے کے ناطے ... ظلم جہاں بھی ہو وہاں پارس حسن چپ نہیں رہتی .... " وہ سنجیدگی سے بولی۔ "ویری نائس .... بہت تعریف سنی ہے میں نے آپ کی ... انشاء اللہ کل یونیورسٹی آؤں گا تو ڈائر یکٹ تھنکس کہیں گے۔

۔" نہیں ایسی کوئی بات نہیں اٹس اوکے ... 


نہیں ایسے تو نہیں نا ایٹ لیسٹ ایک کپ چائے تو ہمارے ساتھ چلے گی ؟ 

پارس کوہ پتہ نہیں کیوں ضدی سالگا۔ لاکھ منع کیا مگر۔۔۔

وہ بضد تھا بلاآخر پارس نے رضامندی دے کے جان چھوڑوائی۔ اف پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ ہوتے ہیں .... " وہ سر جھٹک کے رہ گئی۔

                                  ☆☆☆



مانتا ہوں کہ تجھے عشق نہیں ہے مجھ سے

لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھکو 


سر کی کھائی ہوئی قسموں سے مکرنے والے

تو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھکو


ابے یار چل بھی رک کیوں گیا ھے ؟؟؟

شیر از اسے اک جگہ جما ہوادیکھ کر جھنجھلا کر بولا تھا

تو تو ہے ہی صد اکابد ذوق دفعہ ہو جاتو . وہ بناا سے دیکھے اس پہ بر سا تھا

اچھاز رادیکھا میں بھی تیر اذوق دیکھوں؟؟؟ شیر از دانت پیس کے بولا تھا

ادھر دیکھ پارکنگ کی طرف سیلور گاڑی کے پاس... حیدر کی نشاندہی پر اسے گھوم کر رخ پیچھے کیا تھا

بلیک اینڈ وائٹ کنٹراسٹ شرٹ گھٹنوں تک بلیک جینز بلک وائٹ پونی سیم گھٹری بیگ جوتے بریسٹ رنگ ایر رنگ ایون کہ اسکی فائل

تک بلیک اینڈ وائٹ تھی

آہا...... یہی ہے وہ ملکہ عالیہ جس تک پہنچانا تھا آپکو ... جاؤ اب بھگت لو... شیر از اسکا پورا جائزہ لے کر حیدر کو کہا تھا

سچ میں ؟؟ حید ر تو پاگل ہی ہو گیا تھا

واہ یار زبر داست کنٹر اسٹ اور میچنگ دیکھو... کچھ زیادہ ہی امپر یسں ہو گیا تھا ۔کئی حسد کی آگ میں جل چکی ہیں اور باقی اسے کاپی کر رہی ہیں مگر جی اتنے بڑے باپ کی بیٹی ہے اسکی طرح کون روز ہر چیز میچنگ خریدے .... اسکی گاڑی کی چابی کی کی رنگ

تک میچ ہوتی ہے... شیر از تفصیل بتائی تھی حیدر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا

چل منہ بند کر۔۔۔۔۔ہم اس سے کم نہیں ہیں شیر از اسے یوں بت بنے دیکھ کر مخاطب ہوا تھا

ہمممممم تو جا میں اب دیکھ لیتا ہوں اسے ... اسے واپس بھیج کے خود اپنا جائزہ لیتا اسکی جانب بڑھا تھاوہ گاڑی سے ٹیک لگاۓ کچھ لکھ رہی

تھی

بائے پارس... اسکی پکار پہ پارس نے سر اٹھایا تھا

اسلام علیکم !!! پارس کے سلام کرنے پر شرمندہ ہو گیا تھا

تھی

ایم حید ر ... کل کال پر بات ہوئی تھی ... پارس جو سلام کر کے پھر کام لگ گئی تھی اب کی بار فائل بند کر کے اسکی طرف متوجہ ہوئی

جی حید ر صاحب فرمائیں کیا خدمت کر سکتی ہوں؟؟؟

سب سے پہلے تو میں صاحب نہیں ... میر انام حیدر کرارہے ... اور دوسری بات خدمت کا موقع آپ ہمیں دیں تاکہ قرض چکا

دیں... حیدر کی بات پر وہ مسکرادی تھی

کرار ؟؟؟ کس کے کرار ھیں ؟؟؟

جو بنائے مجھے اپنا کرار ؟؟؟ وہ کبھی شوخ ہوا تھا ...

آہاں مطلب سب کا کردار بن جاتے ہیں آپ؟؟؟ اسنے چھیٹر اتھا

او نہیں ہی ہم آج تک کسی نے نہیں کہ کوئی چاہے تو کار بن کر اس کی روح تک میں اتریں گے

اد وجو... باۓ دی وے جسکی میں ہیلپ کی وہ تو تھینکس کہنے آیا نہیں آپ اسکے سیکرٹری کیوں بنے پھر رہے ہو ؟؟؟ پارس کی بات پہ وہ تھوڑا شرمندہ ہوا تھا

وہ گھر ہے ابھی پہنچا نہیں میں میسج کر تا ہوں آجاتا ہے .. حید ر کے کہنے پہ سر ہلاتی اسکے ساتھ چل پڑی تھی تھوڑی ہی دیر میں بریر لاشاری بھی آگیا تھا اسنے تھینکس کہہ کے زبان پہ تالالگالیا تھا جبکہ حیدر کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی بریر نے سر اٹھا کر دوبارہ پارس کو نہیں دیکھا تھا پارس کو وہ بہت ڈیسنٹ اور پیارا انسان لگا تھا جبکہ حیدر کافی دلچسپ ۔۔۔۔۔اس کچھ دیر میں پارس اور حیدر کے بیچ کافی دوستی ہو چکی تھی ... بریر جیسے چپ چاپ آیا تھا ویسے چپ چاپ اسکے ساتھ چلا گیا تھا پارس کافی دور تک اسکا تعاقب کیا تھا ۔ ۔ .

                                            ***

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

مجھکو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

عزت نفس بڑھاتا ہے سہارا تیرا

اسنے قرآن پاک کھول لیا تھا... کافی دیر وہ حالی الذہن قرآن پاک پہ بڑی عقیدت اور محبت سے ہاتھ پھیرتی رہی تھی چومتی رہی

تھی پھر اپنے کچھ صفحات پلٹے تھے سامنے سورہ الزمر تھی

"اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرماۓ تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے ...."

اسے لگا یہ آیت اسکے لیے ہی سامنے نکل آئی ہے اسکے آنسو بہنے لگے تھے قرآن کو سینے سے لگا کر رونے لگی تھی اللہ سے معافی مانگنے لگی تھی

اے اللہ مجھے معاف فرمادے میں تیری مانے والی تیرے نبی کی امتی ہو کر بھٹک رہی تھی بجاۓ اسکے کہ میں غیر مسلموں کو قرآن کی نبی کی سنت کی دعوت دیتی باتیں بتاتی وہ مجھے انجیل کا درس دے رہے ہیں اور ہم سے بہتر کون جانتا ہے

" اللہ ہر شے پر قادر ہے "

" اللہ زمینوں آسانوں کا نور ہے "

"

صرف اللہ اور اس کا رسول تمہارے دوست ہیں "

اومیرے اللہ مجھے معاف فرمادے۔

سامنے سورہ یوسف کی آیات تھیں

اے اللہ تو ہی دنیا اور آخرت میں میر اولی ہی مجھے دنیا سے مسلمان اٹھانا اور آخرت میں صالحین کی سنگت عطا کرتا ....

اے میرے پرورد گا ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور مجھے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھنا....

اب کی بار دل کو کچھ سکون ملا تھا اسنے قرآن اٹھا کر پھر سینے سے لگا لیا تھا دیوانہ وار چوما تھا اور بڑی محبت سے ہاتھ پھیراتھا اسے یاد

آرہا تھا بچپن میں بابانے قرآن پاک پڑھاتے ہوۓ اک آیت کا ترجمہ کیا تھا جس میں تھا کہ

" اللہ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہوسکتا ہے"(البقرہ آیت نمبر138)

اسنے بابا سے پوچھا تھا اللہ کے رنگ کا مطلب کیا ہے تو بابا بتایا تھا اللہ کے رنگ کے کئی معنی ہیں اک قول ہے اللہ کے رنگ سے مراد اللہ کا دین ہے دوسرا معنی اس سے مراد اللہ کی فطرت اور تیسر امعنی اللہ کی سنت ہے اک رائے یہ بھی ہے کہ اسکا مطلب اللہ کی صفات

بھی ہوں ... اس وقت پارس حسن کے ذہن میں اک ہی بات آرہی تھی کہ اللہ کے دین سے بہتر اور بھلا کون سا دین ہو سکتا ہے ....

بے شک اللہ کا دین دین اسلام ہی ہے ..... ایسا لگ رہا تھاک قرآن کی آیات دیکھنے سے زیارت کرنے سے سبھی الجھنیں ختم ہو گئی

ہوں اسنے قرآن پاک رکھا تھا اور وضو کرنے بھا گی تھی اللہ کا شکر بھی تو ادا کرنا تھانا ۔۔۔۔

                             ☆☆☆☆☆

کلے تے بھار سی اک بھار اکو

کدے اوہ یار سی اک یار اکو


اوہ جتھے گھنگنیاں تے عید ہوئی

اوہ میرا گھار سی اک گھار اکو


کئی دل ہن وفا دا مقبرہ نیں

تے ہویا وار سی اک وار اکو


دروازہ کھلا تھا اور لاؤنج سے کوئی نکل کے باہر آیا تھاہاتھ میں بائیک کی چابی تھی شاید وہ کہیں جارہا تھا... مگر لان کا منظر دیکھ کر اسکا دماغ اک بار پھر سے گھوم چکا تھا .. ممابابا چاروں بہن بھائی مکمل فیلی ہنستے کھل کھلاتے.... جنید لاشاری کسی بات پہ بیگم کو ڈانٹ رہے تھے

کہ میرے بچوں پہ غصہ مت ہوا کر یہ تو اس باغ کے پھول میں رونق ہیں راحت بیگم کھل کر ہنسی تھیں ہنستے ہنستے بریک لگی تھی جب غضب ناک تیوروں سے گھورتے بریر لاشاری کو دیکھا تھا وہ دیکھ کہیں اور رہا تھا مگر چہرے کے تاثرات بتارہے تھے وہ سب دیکھ چکا تھا نجانے کیوں آج پہلی بار انہیں بیٹے پہ ترس آرہا تھا ...و ہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا با ئیک تک گیا تھا اور بائیک سٹارٹ کر کے نکل گیا تھا

راحت بیگم کا دل دکھ سے بھر گیا تھا... چائے کا بہانہ کر کے اٹھ گئی تھیں آخر آنسو بھی تو بہانے تھے جو سب سے ضبط کئیے بیٹھی تھیں

گھر سے تو حیدر کی طرف جانے کو نکلا تھا مگر اب موڈ ستیاناس ہو گیا تھا بے مقصد سڑکوں پہ بائیک دوڑا تارہا تھا آخر تھک ہار کر پھر اسی

گھر کولوٹنا پڑا تھا ...

                                        ★★★

میری آنکھیں حیراں ہیں تمہیں دیکھ کر 

تمہارے بغیر کسی کو بھی دیکھنے سے گریزاں ہیں

(جو تمہارے بغیر کسی کو نہیں دیکھ سکتی) 

تمہاری آنکھیں جیسے رات بارش کے بعد آسماں پر چمکتے ستارے

جیسے کہ آسمان ان میں سما گیا

میں اپنی تمام دنیا بھول بیٹھا اس رات 

  جب میں نے تمہیں دیکھا.     

 تمہاری نشیلی آنکھوں میں میں نے کیا کیا نہیں دیکھا.    

  جب میں نے تمہیں دیکھا  

 میں نے تمہارے سارے غم اسی رات خرید لئیے تھے 

جب میں نے تمہیں اپنا دل دیا تھا 

تمہاری جان کی قسم 

میری جان میں جان آئی (اور میں زندگی کی طرف لوٹا) 

جب میں نے تمہیں دیکھا

فرہاد

جس نے اس دل سے سارے غم نکال دئیے

تم شیریں 

مگر کبھی میرے دل کو دکھ مت دینا 

سکون تمہارے ساتھ ہی معنی خیز ہے

میری دنیا تمہارے ساتھ ہی حسین ہے

میں اپنی تمام دنیا بھول بیٹھا اس رات

جب میں نے تمہیں دیکھا 


حیدر پارس حسن کے اسقدر قریب آ چکا تھا اس سے بات کئے بنا پارس کی صبح نہ ہوتی تھی اسے دیکھا بنابات کیے بنا اسے چین نہ آتا

تھا پارس حسن میں دو واضح تند یلیاں آئی تھیں اک وہ خوش رہنے لگی تھی اور دوسرا اسکا دوپٹہ جو گلے میں جھولتا تھا اب سر پہ رہنے لگا

تھا مستقل ۔وہ پہلے سے زیادہ باوقار دیکھائی دینے لگی تھی۔

کیا کر رہی ہو ؟

کچھ نہیں... چاند دیکھ رہی ہوں ...

وہ کھڑکی میں کھڑی پورے چاند کو تکنے میں محو تھی۔تبھی فون کی بیل بجی تھی۔دوسری جانب حیدر تھا۔

ارے واہ میں بھی چاند کو دیکھ رہا تھا. . چلو اسی بہانے ہم ایک تو ہیں ورنہ کتنا فاصلہ ہے ... وہ اداسی سے بولا تھا

تو فاصلہ حتم بھی تو ہو سکتا ہے نا؟؟

جی ہو سکتا ہے میں بھی یہی چاہتا ہوں اب ختم ہی ہو جائے .... مگر ....

مگر کیا؟ پارس بے چینی سے پوچھا تھا

ارے کچھ نہیں ... میں تو جب جب سوچتا ہوں اگر آپ مجھے نہ ملی تو ؟؟؟ پھر میں اس تو سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں پاتا... لگتا آگے زندگی ختم ہے....

میں کیوں نہیں ملوں گی بھلا ؟؟؟

ارے یا راتنے بڑے باپ کی بیٹی ہو تو وہ اپنے اسٹیٹس والوں میں ہی کریں گے نا تمہاری شادی? ہم تو انکے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں وہ مایوسی سے بول رہا تھا۔۔۔

نہیں بابا وہی کرتے ہیں جو میراجی چاہتا جس میں میری خوشی ہو....

اور میں تو ہوں ہی آپکی... پھر کیوں پریشان ہوتے ہیں اسنے یقین دلا یا تھا

پتہ نہیں کیوں آپکو کھو دینے کا خوف ہے اندر کہیں .... آپ نہیں جانتی پارس کہ آپ میرے واسطے کیا ہو ؟؟؟ میری رگوں میں خو ن کی طرح بہتی ہو آپ .... آپکو خود سے جدا کر ناموت ہے میرے لیئے.... اسکی آواز میں نمی گھل گئی تھی

اللہ نہ کرے ایسی باتیں تو نہ کر یں پلیز ... وہ تڑپ اٹھی تھی ....

اچھا یار آپ اپنے بارے میں تفصیل سے بتاؤ تا کہ میں گھر بات کر سکوں اک بار ٹرائی کر لیتے ہیں آپکے والد محترم مان جائیں

کیا بتاؤں سب آپکو پتہ تو ہے

مطلب گھر میں کون کون ہے مما بابا بہن بھائی وغیر ہ۔۔

آپ نے کبھی اس بارے میں بتایاہی نہیں ہے 

کے اور بابا کے سوا کچھ نہیں علم مجھے۔میری مماتو پوری تفصیل پوچھیں گی اور میں کیا کہوں گا ؟؟؟ وہ مسکینیت سے بولا تھا

باباہی باباتو ہیں بس ۔۔۔۔اور کوئی ہے ہی نہیں ہو تا تو بتادیتی ... وہ سنجیدہ ہو گئی تھی

یار کلیر تو کرو مما کدھر ہیں؟؟؟

مابابا سے ڈائیورس لے لی تھی ایک بھائی تھا وہ مماپاس ہے اور ہمیں نہیں علم وہ کدھر ہیں۔


تو اس دن کلاس میں کس کو سولی پر لٹکانے کا بولا تھا آپنے ؟؟؟

وہ مما اور ماموں کا جنہوں نے بھائی چھین لیابابا اسے بہت مس کرتے ہیں روتے رہتے ہیں میرا جی چاہتا جنہوں نے ہم سے بھائی چھینا

انکو گولی مار دوں .....

اواچھاچھا... توکوئی علم نہیں کہ وہ کدھر ہمیں کبھی ملے بھی نہیں ؟؟؟

نہیں کچھ علم نہیں .....

اور اللہ پاک آپکے بھائی کو آپ سے ملوائے اور آپکے بابا کو صبر دے... حید ر دعادی تھی

آمین ....اسکے آنسو بہنے لگے تھے

چلو سو جاؤ کافی رات ہو گئی میں کل مما سے بات کروں گا... حید راسے خواب دیکھا کر فون بند کر چکا تھا اور پارس اسکے سنگ حسین دنیا کی سیر میں گم تھی

                                       ☆☆☆

ہاں جی سعد کیا بنا؟

کچھ بھی نہیں . وہی مثال ھے کھودا پہاڑ نکلا چوہا... سعد تپا ہوا تھا


کیا مطلب ؟ ھارون حیران تھا

یہی کہ وہ شمائل حسن صاحب کی بیٹی ہے ۔

اسکی مماڈائیورس لے کر کہیں اور شادی کر لی اک بھائی بھی ہے اسکا جو اس کے ننھیال والوں کے پاس ہے۔

سعد کی اطلاع پر اسنے سکھ کا سانس لیا تھا

یا ر یہ ثمر اور رخماء پاگل ہو رہی تھیں کہ وہ گڑیا ہے اس لیے چل اچھا ہوا پتہ لگ گیاور نہ میرے سے کچھ غلط ہو جا تا۔ بچ گئی وه... ھارون ہنسا تھا

اوئے گوریلے کس بھول میں ہے ؟ وہ گڑیا حسن نہیں ہے پارس حسن ہے . لا وارث یا یتیم نہیں ہے اسکے باپ نے ایسی تربیت کی ہے

عورت تو عودت مر دتک سنبھل کر بات کرتے ہیں ہنی دادا کو جانتا ہے نا؟ اسکی ایسی ٹھکائی کی تھی اس نے آج تک اسے یاد ہے آج بھی وہ سر جھکا کے یونیورسٹی میں گھومتا ہے تو کسی بھول میں مت رہنا.... باپ تو باپ وہ خود تیری نسلیں برباد کر دے گی ..... سعد نے

اسے عقل دلائی تھی

خیر تو ہے ناسعد میاں اتنی طرف داری ؟؟؟

او کمینے طرف داری نہیں ہے سمجھارہاہوں پنگامت لینا وہ بخشتی نہیں ہے ... اگر یقین نہیں تو آزمالے خود دیکھ لینا .... سعد کی وارنگ پہ وہ سوچ میں پڑگیا تھا پھر ثمرہ کے کمرے کی طرف بھا گا تھا۔

ثمر وہ ہنی دادا یونیورسٹی جاتا ہے ؟؟؟

جی بھائی جاتا ہے مگر اب بس پڑھنے جاتا ہے ... وہ بتا کر ہنسی تھی

کیا مطلب؟

مطلب بھائی وہ پارس حسن ہے نا؟؟؟؟ ثمرہ اسے تفصیل بتارھی تھی اور وہ بت بناسن رہا تھا اب ملال اور بڑھ گیا تھا... مگر اب وقت گزر چکا تھا

                                             ☆☆☆

اگر تم دل گرفتہ ہو

کہ تم کو ہار جانا ہے

تو پھر تم ہار جاؤ گے

اگر خاطر شکستہ ہو

کہ تم کچھ کر نہیں سکتے

یقیناً کر نہ پاؤ گے

یقیں سے عاری ہو کر

منزلوں کی سمت چلنے سے

کبھی منزل نہیں ملتی ۔ ۔ ۔

کنکر کے جتنے حوصلے والوں

سے بھاری سل نہیں ملتی

زمانے میں ہمیشہ کامیابی

ان کے حصے میں ہی آتی ہے

جو اول دن سے اپنے ساتھ

اک عزم مصمم لے کے چلتے ہیں

کہ جن کے دل میں عزم و حوصلہ اک ساتھ ملتے ہیں

اگر تم چاہتے ہو کامیاب و کامراں ہونا

تو بس رخت سفر میں

تم یقین و عزم کی مشعل جلا رکھنا

سفر دشوار تر ہو

تب بھی ہمت ، حوصلہ رکھنا

سفر آغاز جب کرنا

تو بس اتنا سمجھ لینا

جہاں میں کامیابی کی یقیں والوں سے یاری ہے

اگر تم بھی یقیں رکھو

تو پھر منزل تمھاری ۔ ۔ ۔

سر میں آپکا بہت نام سنا ہے ہر جگہ پاکستان بھی اورپاکستان سے باہر بھی ۔

جی پوچھے بیٹا کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ؟ رابرٹ صاحب نہایت نرم انداز میں بولے تھے

سر میں بہت سا پیسہ کمانا چاہتا ہوں ...

ہممممم ..... کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اپنی اگلی سانس لے سکو گے ؟؟؟

رابرٹ صاحب کے سوال پر وہ کچھ دیر چپ ہوا تھا

سر میں یہ پیسہ لوگوں کی بھلائی اور غربت مٹانے کو کمانا چاہتاہوں اور مجھے یقین ہے اس نیک کام کے لئے اللہ مجھے لمبی عمر دے گا.... وہ لڑ کا سوچ سمجھ کر بولا تھا

اندازے کے مطابق کب تک جی سکوگے ؟

یہی کوئی ستر اسی سال ... وہ بڑا پر یقین تھا

گڈ... پھر تم یوں کرو بہت ساری محنت کرو اور اگلے سال تک کے لئے بند روسو ڈالر کی بچت کرو. اب اس بچت میں ہر ہر سال دو ہزار

ڈالر کا اضافہ کرتے جاؤ ... جب آپ کی عمراڑ تیس ہو گی آپکے پاس جمع شد در قم چالیس ہزار ڈالر ہو جاۓ گی آپ اس رقم سے کوئی

بھی اچھاسا چھوٹاسا بزنس شروع کر سکتے یہ چالیس لگا کر کاروبار کر و تم اس

ملک کے امیر ترین لوگوں کی صف میں آجاؤ گے .. رابرٹ صاحب کی بات پر نہ صرف وہ لڑ کا جو سکائپ پر رابرٹ صاحب سے بات کر رہا تھا وہ حیران اور اشتیاق سے سن رہا تھا بلکہ سائیڈ پر کشن رکھے بیٹھی پارس بھی دلچسپی سے سن رہی تھی....

یا در کھوشکست کا لفظ کو شش اور جد وجہد سے مشروط ہے try مین کو شش umph شگفتگی ایکوئیل سکس .... یہ جو مشکلیں اور مصیبتیں

آتی ہیں بلاشبہ آپکی ترقی خوشحالی عظمت اور بہتری کے لئے چیلنج ثابت ہوتی ہیں ہر مشکل آپ کو یہ موقع فراہم کرتی ہے آپ اس کا سامنا کرتے ہوۓ بہتر سے بہتر بنتے جائیں.... اگر آپ اپنے بھی مسائل اور ذاتی مشکلات کو چیلنج سمجھ کر سامنا نہیں کر یں گے تو ...آپ کو ذاتی جیت کامیابی اور فتح کے لطیف اور خوشگوار احساس کے لطف اور شگفتگی سے شناسائی نہیں ہوسکتی۔۔۔۔

پارس حسن تو عش عش کراٹھی تھی۔

اللہ اللہ اتنابہترین انسان اتنے وصف اتنے کمال اور غیر مسلم بنا دیا..اللہ جی .

یکدم اسے یاد آنے لگا تھا محنت میں عظمت ہے اللہ کسی کی محنت رائیگاں نہیں کر تا .. . اسے حدیث یاد آنے لگی تھی نبی پاک کے پاس

جو بندہ آیا تھا کہ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے آپ نے فرمایا تمہارے گھر کیا چیز موجود ہے اس وقت ؟ اسنے کہا اس وقت

سواۓ اک پیالے اور اک چمڑے کے ٹکڑے کے۔جس پر میں سوتاہوں اور کچھ بھی نہیں ہے

آپ نے فرمایاجاؤ وہ لے آؤ... وہ لے کر آیا تو آپ نے فرمایا جاؤان دونوں کو بیچ کر بازار سے اک کلہاڑی اور رسی خرید لاؤ.... وہ چلا گیا جب وہ بیچ کر کلہاڑی اور رسی لے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اب جنگل کی طرف اور لکڑیاں کاٹ کر رسی سے باندھو اور بازار میں بیچ آو... لہذا اسنے ایسا ہی کیا جب وہ لکڑیاں کاٹ کر بازار بیچ کر واپس آیا تو اسکے پاس کافی رقم موجود تھی آپ نے فرمایا جاؤ خود بھی کھاؤ

اور اپنے غریب ساتھیوں کو بھی کھلاؤ.... آج وہی مثال رابرٹ انکل اس لڑکے کو دے رہے تھے فرق بس دین کا تھاوہ اٹھ کر رابرٹ انکل کے پاس آ بیٹھی تھی ۔

انکل اگر میں آپکو اس بہتر اور جامع کتاب دوں اور آپ اسے اپنے اندر جذب کر لیں تو یقین مانیں آپ سے زیادہ خوش نصیب بندہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔

اچھادہ کونسی کتاب ہے ؟لاؤ دیکھاؤزرا؟ ا ا ا ا

ایسے نہیں اسکے لئیے پاک ہونا ضروری ہے ... دوسرا جھنکالگا تھا

لیکن میں تو کچھ دیر پہلے باتھ لیا صاف لباس پہنا ہے خوشبولگائی ہے ... وہ حیران تھے

جی مگر ہماری پاکیزگی کا اک اور طریقہ ہے آپ جاننا چاہیں گے ؟ پارس نے سسپنس پھیلا دیا تھا

ہاں بلکل بتاؤ مجھے انہوں نے اشتیاق سے کہا تھا

چلیں آجائیں .... وہ اٹھ کر اسکے پیچھے چل دیے تھے

آپ کی انجیل مقدس میں ہے خدا بے شمار خوبیوں کا مالک ہے خدا ان لوگوں کی حفاظت کرنے کی زبر دست قوت رکھتا ہے جو اسکی ذات پر ایمان لاتے ہیں اور بھروسہ رکھتے ہیں ... اسنے انکی آیت بول کر سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا تھا

جی بلکل.... انہوں نے رک کر اثبات میں سر ہلایا تھا

اسکے بدلے اک آیت کافی نہیں کہ

" اللہ زمینوں اور آسمانوں کا نور ہے "

پارس کی بات یہ وہ مسکرادیے تھے

جی بلکل ہم مانتے ہیں یہ بھی انہوں نے سر جھکا کر جواب دیا تھا

اور اللہ انکی فکر کر تا ہے جو اسکی سنتوں کی اسکی نمازوں کی فکر کرتے ہیں .

 اب کی بار وہ اسے دیکھنے لگے تھے وہ وضو کرنے جاتے جاتے وہی گیلری میں رکھے صوفے پر ٹک گئے تھے

پارس حسن آپ بہت چھوٹی ہو.... ایٹ لیسٹ مجھ سے تو چھوٹی ہو میں آپ کی ان باتوں کو بے وقوفی بھی گر دان سکتا ہوں کہ اک بیس بائیسں سالہ لڑکی پینتالیس سالہ اسکالر بزنس مین پروفیسر کو نصیحت کر رہی ہے .. 

کیا آپکو لگتا ہے پارس حسن کہ میں آپکے دین کو آپکے مذہب کو ایکسیپٹ کروں گا؟؟؟ کبھی نہیں قطعا نہیں... میں وضو کرنے چل پڑا ہوں تو اسے اپنی جیت نہیں سمجھنا... انہوں نے بڑے آرام اور نرم اندرسے سے باور کرایا تھا جو سینے پہ ہاتھ باندھ کر دیوارسے ٹیک لگا کر کھڑی تھی مسکرا دی تھی ۔۔۔


انکل میں تو ایسا کچھ نہیں کہا ... ہاں البتہ آپکی آیات کے بدلے زیادہ جامع اور ٹھوس آیات آپکو بتائی ہیں آپکی کتاب ہاتھ سے لکھی گئی

ہے ہم جتنی انجیل اکٹھی کر یں گے ہر کتاب الگ الگ سے ہو گی جبکہ میر اقر آن پوری دنیا سے بھی اکٹھا کر لیں تو آپکو زیر زبر شد مد کی

غلطی نہیں ملے گی کیونکہ یہ اس اللہ نے اتارا ہے جس اللہ کو آپ خدا کہہ کر مانتے ہیں اور اس اللہ نے اسکی حفاظت کا ذمہ بھی خو دلیا

ہے... قر آن وہ کتاب لاریب ہے انکل جسکے معانی و مفاتیم آیات و مطالب اپنی جامعیت کے اعتبار سے لاثانی ولا فانی ہیں اور یہ چیلنج میں اک آپکو نہیں دے رہی یہ چیلنج ہر عہد ہر دور کے لیے ہے جنکی وجہ سے اللہ نے یہ کائنات تحلیق کی وہ ذات اتنی اعلی ہے کہ جہاں پر انبیاء کرام کے کمالات کی انتہاہوتی ہے وہاں سے میرے نبی کے کمالات کی ابتدا ہوتی ہے انکی نہ مثل ہے نہ مثال ہے ...

پارس حسن کی گفتگولا جواب تھی وہ دلچسپی سے سن رہے تھے

آپکے نبی نے بھی اک عرصہ ریسرچ کی ہو گی ان کاموں میں اپنی زندگی لگائی ہو گی تبھی تواتناعلم تھا... وہ پھر بھی ماننے کو تیار نہ تھے

انہوں نے اتنا کچھ کیا تب ہی تو وہ یہ بھی جانتے تھے کہ things not dense اینڈ دیٹس ریزن surface tension ہے

انکل میں بتارہی ہوں نا کہ یہ کسی بندے کی کسی نبی کی لکھی کتاب نہیں ہے۔۔۔ اور یہ نبی کا کہنا نہیں اللہ کا فرمان ہے آپ قرآن پاک کو دیکھیں

سورہ الفرقان پارہ انیسواں آیت نمبر تریپن میں اللہ فرماتا ہے

" اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا کر جاری کر دیئے یہ نہایت شر یں اور یہ کھاری یعنی کڑوا ہے اور انکے در میان اک قد رتی حجاب ہے اور رو کی ہوئی آڑ ہے "

اتنے دلنشین انداز میں پارس نے آیت تلاوت کی اک پل کو رابرٹ انکل کا دل لرز گیا تھا

غالبا انکل آپ اس آڑ کے لیے surface tension کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں یہ اللہ کا نظام ہے آپ پھر بھی نہیں مانتے تو آپ نبی پاک کی سیرت پاک اور زندگی کا مطالعہ کر لیں انہوں نے کبھی بھی سمندر کا سفر نہیں کیا... یہ کسی شخص کا کلام نہیں ہے

خالق حقیقی کا کلام ہے ... وہ چپ تھے دل میں دراڑ پڑ چکی تھی مگر اعتراف انا کے خلاف تھا...

ہممم مجھے دینا انکی کتاب۔۔۔میں انکی لا ئف کے متعلق پڑھوں گا پھر دیکھوں گا کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ...

وائی ناٹ شیور انکل ۔۔۔ابھی لا دیتی ہوں آپ پہلے سیرت نبی دیکھیں پھر قرآن کو... 

پارس حسن کو نجانے کیا جلدی تھی جو بابا کی لائبریری سے سیرت النبی کی کتاب اٹھا لائی تھی جو انکو ہر حال میں قائل کرنا چاہ رہی تھی

...جورابرٹ انکل مسکر ا کر تھام لی تھی

اوکے اب میں روم میں چلتا ہوں آفس کا بھی کچھ کام ہے اور اسکا بھی مطالعہ کروں گا۔۔۔۔


جاری ہے


Hy


Show quoted text

    

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
Search results