
"کہاں ہے وہ شخص "
وہ تیری باتیں تیری یادیں ساری
میرے سامنے کھڑی ہنستی ہیں مجھ پہ۔
میرے حلقہ احباب کے لوگ سبھی,
سر شام جو چمکتے ہیں آسمان پہ وہ
چاند ستارے, شام ڈھلے وہ ڈوبتے سورج کا منظر,
وہ میرے گاؤں کے راستے,
میرے کمرے میں پھیلی کتابیں,
کاغذ قلم کی خوشبو,ٹھنڈے کافی کا کپ,
آدھے ادھوری لکھی تحریریں میری
سب ہی تو چیختے ہیں مجھ پہ ۔۔۔
کہ بتا کہاں وہ شخص جسکی خاطر زندگی کو بے دردی سے قدموں
تلے روند ڈالا تھا,
وہ گاؤں کے داخلی رستے میں پیپل تلے کھڑا چھابڑی فروش
روز یوں تکتا ہے جیسے ہنستا ہو میری تنہائی پہ,
جیسے کہتا ہو پاگل لڑکی بتا کہاں ہے وہ شخص
زندگی کا لمحہ لمحہ جس کے نام لکھ ڈالا۔
تجھے چھو کر آتی مست ہوائیں,
وہ بارش کی بوندیں, وہ چودھویں کے چاند کی ٹھنڈی چاندنی,
میرے گاؤں کی جھیل کا شور مچاتا پانی,
اور جامن پیپل کے پیڑ سارے,
ان پہ گنگناتے پرندوں کا شور سب ہی سامنے کھڑے
منہ چڑھا رہے ہوتے ہیں۔
،بتا کہاں ہے وہ شخص جسکی خاطر تو نے ماری ہیں خوشیاں ساری,
،جس کے واسطے تو نے پہنا ہے چولا ہجر
کہاں ہے وہ شخص جو تجھے عزیز تر تھا, زندگی کے رنگوں سے بھی
قریب تر تھا
بتا کہاں ہے وہ شخص
آخر زندگی نے بھی _______آج پوچھ لیا ہم سے
بتا کہاں ہے وہ شخص, جو تجھے مجھ سے بھی عزیز تھا 🥀
ایمی
