Sang-E-Dil Ruba

Sang-E-Dil Ruba

0


لیکن  ذہنی سکون کو متاثر کرنے کےلئیے جانا جاتا۔ یہ سب اسے اسرار اور جادو کی چمک دیتا ہے جو تمام پتھر سے محبت کرنے والوں کی تعریف کا سبب بنتا ہے۔یا پھر سیفائر سے تشبیہ دوں جو اپنے رنگ اور چمک میں یکتا ہے مگر مزاج خشک اور سرد ہے۔ میں اپنی عمر بھی لگا دوں آپکی چاہ میں تو آپ جیسی پتھر ذات پہ کسی پتھر کی خاصیت بھی اثر انداز نہیں ہوگی۔لیکن عشق, والے کب بدلے مانگتے ہیں وہ تو ملنگ لوگ ہوتے ہیں, اپنے ہی سرور اور اپنی دھن میں مگن جینے والے, اور عشق تو ہمشہ یک طرفہ ہی ہوتا, دوطرفہ تو سودے ہوا کرتے ہیں ۔میں نے اپنے دل میں آپ سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہیں دیکھی ,میں آپکے سوا کسی کو نہیں چاہتی۔اس لئیے میں آپکو سب سے خوبصورت قیمتی اور نایاب پتھر سے تشبیہ دیتی ہوں "حِجرُالبَرق سَنگ دِلرُبا"جس قدر اس نام میں مٹھاس ہے اس قدر یہ پتھر نایاب اور قیمتی ہے دو دلوں کے میل میں اہم سنگ میل رکھنے والا, محبت کی عشق کی علامت۔آپ بھی میرے لئیے"حِجرُالبَرق سَنگ دِلرُبا"ہیں  مگر مخض سنگ دلربا, ہم جیسے لوگوں کے حصے میں سنگ ہی آتے ہیں۔ہمیں سنگتیں کہاں راس آتی ہیں۔ کئی وار فیروزے بدلے ہن سوا لکھ یاقوت وٹائے ہن درہ نجف سمیت ان گنت عقیقاں نیلم زرقون وی پائے ہن مرجان تے موتی ون ون دے وارو واری سب آزمائے ہن پر ہائے!!!  افسوس مقدراں تے نگ سنگتاں وانگ راس نہ آئے ہن🥀
gemstone 

            "حِجرُالبَرق سَنگ دِلرُبا"

مرشد میرا حال تے پچھ

کِنج دا گزریا سال تے پچھ

مرشد میرے یار وی چھڈ گئے

کیوں چھڈ گیا دلدار تے پچھ

مرشد کوئی وی مت نئیں دسدا

وِگڑن دے اسباب تے پچھ

مرشد اج میں ہر گیا واں

ہرایا کینے ناں تے پچھ

اکثر سوچتی ہوں کہ میرے پاس جتنی محبت تھی آپ سے کر لی ہے 

اب مجھے ہر انسان سے کوفت ہوتی ہے بیزاری ہوتی ہے, میں بھیڑ سے 

ہجوم سے بھاگتی ہوں۔کوئی مجھے کال کرے میں تو میں غائب دماغی 

سے سکرین گھورتی ہوں کہ کیا کروں, حتی کہ فون بج بج کے خاموشی 

اختیار کرلیتا, کوئی میسج بھیجے تو کئی کئی دن میں اسے کھولتی نہیں کوفت 

سے کہ جواب دینا پڑے گا اور پھر گفتگو کا سلسلہ چل نکلے گا, میں بیزار 

رہتی ہوں لوگوں کے سوالات سے, زندگی میں مر مرا کے اک آدھ ہی 

انسان ہوتا ہے شاید جسکے لئیے ہم مصروف بھی فارغ ہوتے ہیں۔اگر 

ہم کسی کی ذات کو اہمیت دیتے ہیں سارے کام چھوڑ کے, آپکو 

جواب دینا اہم مانتے ہیں تو مطلب یہ نہیں ہم بے کار لوگ ہیں۔ہمیں 

کوئی کام نہیں ۔اکثر مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ جس کے لئیے ہر ضروری 

کام پس پشت ڈالا وہ ذات ہر شے سے اہم ہے۔۔آپکی ذا ت میرے 

لئیے ایسی ہی ہے جسے میں "The Most Precious Person In 

The World "سمجھتی ہوں ۔اتنا قیمتی کہ میں تشبیہ دینے سے قاصر 

ہوں, وہ کون سی مثال ہوگی جو آپکی ذات پہ پوری اترے, مگر پھر 

سوچتی ہوں آپکی ذات جتنی شفاف اور قیمتی ہے اتنی ہی پتھر ذات 

ہے۔میں ہر بار کہتی ہوں قیامت آسکتی, مگر آپ جیسے پتھر انسان پہ 

کوئی معجزہ بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ایسی پتھر ذات کہ اسے کسی 

یاقوت, عقیق,مرجان سے جوڑوں یا پھرامبر, ایمیٹرائن سے ۔۔۔

ٹونے کیتے, منتر پڑھیا, ہتھ وچ پائے یاقوت فیروز ے

بخت نہ بدلیا, یار نہ ملیا, میں ہر نسخہ آزمایا سائیں

یا کسی پارس پتھر سے جو لوہے کو بھی چھو جائے تو سونا کردے, یا پھر 

الیگزینڈرائٹ سے جو احسان بخش ہے مگر اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے, یا 

پھر رینبو مون اسٹون سے جو دماغ کو سکون بخشنے کی صلاحیت رکھتا 

ہے, لیکن ذہنی سکون کو متاثر کرنے کےلئیے جانا جاتا۔ یہ سب اسے 

اسرار اور جادو کی چمک دیتا ہے جو تمام پتھر سے محبت کرنے والوں 

کی تعریف کا سبب بنتا ہے۔یا پھر سیفائر سے تشبیہ دوں جو اپنے رنگ 

اور چمک میں یکتا ہے مگر مزاج خشک اور سرد ہے۔ میں اپنی عمر بھی 

لگا دوں آپکی چاہ میں تو آپ جیسی پتھر ذات پہ کسی پتھر کی خاصیت 

بھی اثر انداز نہیں ہوگی۔لیکن عشق, والے کب بدلے مانگتے ہیں وہ تو 

ملنگ لوگ ہوتے ہیں, اپنے ہی سرور اور اپنی دھن میں مگن جینے 

والے, اور عشق تو ہمشہ یک طرفہ ہی ہوتا, دوطرفہ تو سودے ہوا 

کرتے ہیں۔لیکن یہاں حضرت عمر فاروق کاقول یاد آگیا کہ" یہ پتھر ہی 

ہے جو نہ تو کسی کو نقصان دیتا ہے اور نہ ہی نفع,اے حجر اسود اگر تجھ

ے میرے نبی نے نہ چوما ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا".اے قیمتی 

پتھرو!!! میرے لئیے بھی پتھر اہم نہ ہوتے اگر میرا محبوب پتھر 

ذات نہ ہوتا۔پتھر کو آپ سے جوڑوں یا آپکو پتھر سے بات اک ہی 

ہے۔میں نے اپنے دل میں آپ سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہیں دیکھی 

,میں آپکے سوا کسی کو نہیں چاہا۔اس لئیے میں آپکو سب سے 

خوبصورت قیمتی اور نایاب پتھر سے تشبیہ دیتی ہوں "حِجرُالبَرق سَنگ 

دِلرُبا"جس قدر اس نام میں مٹھاس ہے اس قدر یہ پتھر نایاب اور 

قیمتی ہے دو دلوں کے میل میں اہم سنگ میل رکھنے والا, محبت کی 

عشق کی علامت۔آپ بھی میرے لئیے"حِجرُالبَرق سَنگ دِلرُبا"ہیں مگر 

مخض سنگ دلربا, ہم جیسے لوگوں کے حصے میں سنگ ہی آتے ہیں۔

ہمیں سنگتیں کہاں راس آتی ہیں۔

کئی وار فیروزے بدلے ہن

سوا لکھ یاقوت وٹائے ہن

درہ نجف سمیت ان گنت عقیقاں

نیلم زرقون وی پائے ہن

مرجان تے موتی ون ون دے

وارو واری سب آزمائے ہن

پر ہائے!!! افسوس مقدراں تے

نگ سنگتاں وانگ راس نہ آئے ہن🥀

ایمثال احمد ایمی

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
Search results