"شب آرزو تیری چاہ میں"
غم عاشقی تیری راہ میں, شب آرزو تیری چاہ میں
جو اجڑ گیا وہ بسا نہیں, جو بچھڑگیا وہ ملا نہیں![]()
زندگی سب کے لئیے آسان نہیں ہوتی, ہر کوئی اس زندگی کا لاڈلا بھی
نہیں ہوتا, میں زندگی میں ہر حوالے سے بری طرح ناکام رہی ہوں,
اک بیٹی, اک بہن, اک بیوی, اک دوست ,اک طالب علم, ہر
حوالے سے ناکام لڑکی ہوں۔مجھے زندگی میں کچھ کرنا آیا تو شاید اک
عشق ہی بچا جسے ڈھنگ سے کرپائی میں۔مگر وہاں بھی ناکام ہی
رہی۔۔یہ جو لوگ ہوتے ہیں نا کسی اک انسان سے جڑ جانے والے,
اسی کو اپنا دین ایمان, اپنا سب کچھ ماننے والے جنہیں دنیا میں آپ
نہیں آپ میں دنیا ملتی ہو, جن کے لئیے زندگی اک ہی نام, اک ہی
چہرے پہ آکر رک جاتی ہو, ایسے لوگوں سے کبھی ملاقات ہو تو بڑے
ادب سے ملیں, ایسے لوگ اس جہان میں نہیں بستے بلکہ اک پورا
جہان ہوتا ہے جو ان لوگوں کے اندر بستا ہے, کبھی جو بلاوجہ پریشان
ہوں, بیزار ہوں, چڑ چڑا پن, غصہ, ڈپریشن ہو نا تو ایسے بندے سے
مل کر بات کرکے دیکھیں۔جو ہر حوالے سے ناکام رہا ہو, جو عشق کا
بادشاہ بن کے بھی فقیر رہا ہو, ٹوٹے ہوئے دلوں کی سرگوشیاں محسوس
کرکے دیکھیں ,ویران آنکھوں کی اداسی پڑھ کے دیکھیں, اجڑے
ہوئے لوگوں کی آہیں سن کے دیکھنا, اک ٹوٹا ہوا دل بہت سے بے
سکون لوگوں کے سکون کا سبب بن جاتا ہے۔زندگی میں ہر حوالے
سے ناکامی ملی ہولیکن عشق کی مریدی سکون بڑا دیتی ہے, ہاں یہ
سکون, یہ لذت ہجر, یہ مطمئن سی تنہائی بڑی کھجل خواری کے بعد ملتی
ہے,زندگی میں اس لیول تک پہنچنا جہاں خوشی غم برابر ہوں, جہاں
کسی کے ہونے نا ہونے سے فرق نہ پڑتا ہو, جہاں محفلوں سے زیادہ
تنہائی سکون دیتی ہو, جہاں وصل یار سے ہجر یار مدہوش کردیتا ہو, وہ
لیول جہاں, زندگی میں "میں" نا بچی ہو, سب تو ہی تو ہوگیا ہو, وہ
لیول جہاں دعا کے واسطے ہاتھ اٹھیں تو دل پکارے مالک میں راضی
تیری رضا میں, بس تو راضی رہنا, ۔۔۔۔یہ سکون یہ رضا آسانی سے
نہیں ملتی, جہاں محبوب کے محبوب سے بھی عشق ہوجائے, جہاں
انسان سجدے میں بھی پکارے کہ اے میرے مالک, میرا ایمان
ہے میرا یقین پختہ ہے کہ میں اک بار عرض کروں اور تو منہ مانگی م
رادیں جھولی میں ڈال دے, میں پھر بھی تجھ سے محبوب نہیں
مانگنا, میں تجھ سے تیری رضا چاہوں, اور میں محبوب کے لئیے اپنے
سے بہترین محبوب چاہوں, ایسے ظرف اور ایسے ٹوٹے بکھرے
لوگ دلوں کے ہی نہیں روح کے بھی رفو گر ہوتے ہیں, کبھی کہیں
ایسا انسان ملے نا جو دنیا سے بیزار اپنی دھن اپنی مستی میں ہو تو چند
پل ایسے شخص کی ہمراہی میں گزار کے دیکھنا, آپکے سارے درد
سارے غم لے کر دریا میں بہادے گا۔زندگی میں عشق تو تھا ہی لیکن
اک حسرت بڑی شدت سے پلتی رہی کہ کوئی تو ہوتا جو اندر سے بھی
باہر جیسا ہوتا, کوئی تو ہوتا جو اس اجاڑ خلئے میں بھی صدقے جاتا, جسے
سفید بالوں میں بھی میں حسین لگتی, جسے میں پھیکے رنگوں میں بھی
رنگین دکھتی, جس کے لئیے میری سادگی میرا حسن ہوتا, جو مجھے میری
تمام تر کمیوں سمیت قبول کرتا, جسے اس پہ بلکل یوین نہ ہوتا جو دنیا
کہتی, جو بس وہ سنتا جو میں کہتی, کوئی تو ہوتا نا جسے بے داغ جسم, بے
داغ چہرے سے زیادہ بے داغ دل اور روح عزیز ہوتے, مگر کہا نا
زندگی سب کے لئیے آسان نہیں ہوتی, پتہ ہے عکس ایمی مجھے اس سے
عشق ہے, اک دعا کی دوری پہ ہے وہ, مگر ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ اک
داغ دارہوکے بے داغ انسان کے لئیے عرض کرے, ضمیر گوارا ہی
نہیں کرتا اپنے معیار سے اونچے خواب دیکھنے کو, عشق نے خود غرضی
تو سکھائی نہیں, اعلی ظرفی ہی تو دی ہے۔تو بس دعا کرتے ہیں رب
اسے اس جیسا, اجلا, اور شفاف ہمسفر دے, ہائے رے زندگی تیری
مجبوریاں۔۔۔۔
تو بھی نہ مل سکا, زندگی بھی رائیگاں گئی
تجھ سے تو خیر عشق تھا, خود سے بڑے گلے رہے
ا یمثال احمد ایمی

.jpg)