Udasi

Udasi

0

                           
ہماری تحریر کو پڑھنے والے اکثر ہمیں اداس کہتے ہیں..  انھیں لگتا ہے کہ ہمیں پیار میں ناکامی ہوئی ..  اک بات یہ کہ ہر تلخ شخص ضروری نہیں کہ پیار سے ہارا ہو ...یہ جو زندگی ہوتی ہے ناں کئی بار ایسے رنگ دکھا جاتی ہے کہ انسان ہنسنا تو کیا جینا تک بھول جاتا ہے ۔۔ پیار میں ناکام ہوا شخص تو ایک وقت کے بعد آگے بڑھ جاتا ہے مگر جس انسان نے وقت کے ہاتھوں مار کھائی ہو اور روز کسی نئی امید /منزل کی تلاش میں ہو وہ بہت مشکل سے آگے بڑھتا ہے  تو ہر شخص کو عشق نے مات نہیں دی ہوتی کچھ لوگ وقت اور حالات کے بھی ستا ئے ہوتے ہیں۔کل کسی نے پوچھا تو پھر آپکی ہر تحریر میں محبوب کا ہونا لازم  ہوتا ہے?  تو میں کہنا چاہتی ہوں ۔محبوب تو محبوب ہوتا ۔ضروری نہیں جس نے عشق میں آپکو دھوکہ دیا ہو بے وفائی کی ہو وہی محبوب ہوتا۔یا انسان بس اس بے وفا کی یاد میں ہی تڑپ سکتا اور لکھ سکتا ہے۔محبوب شوہر بھی تو ہوسکتا ہے, محبوب ہمارا دوست بھی تو ہوسکتا ہے, محبوب کوئی اجنبی مسافر بھی تو ہوسکتا ہے, وہ بھی تو محبوب ہوسکتا ہے نا جسے اک نظر دیکھا ہو اور پھر زندگی میں دوسری بار دیکھنے کی نصیب نے اجازت چھین لی ہو?  محبوب وہ بھی تو ہوسکتا ہے نا جسے آپ بے تحاشا چاہتے ہوں, جس پہ آپ جان وارتے ہوں, لیکن اسے اک میسج کرنے کی آپ میں ہمت نہ ہو, کہ وہ آپکا میسج دیکھے گا ہی نہیں, دیکھے گا تو نظر انداز کرے گا۔محبوب وہ بھی تو ہوسکتا نا جس کے لئیے آپ اذیت کی آخری حد تک جئیے ہوں۔مگر اسے بتا نہ سکے ہوں کہ مجھے آپ سے عشق ہے, صرف اس لئیے کہ آپ محبوب پہ اسکی عزت اسکی ذات پہ حرف نہ آنے دینا چاہتے ہوں۔آپ نے اذیتیں سہہ کے اسکی سکھ کی اسکی خوشی کی دعا کی ہو۔محبوب وہ بھی تو ہوسکتا جو دن رات آپکے ہی سامنے اپنے محبوب کے قصیدے پڑھتا ہو, جو آپکے کندھے پہ سر رکھ کے کسی اور کے لئیے روتا ہو, جو جب اذیت میں ہو تو وہ اس اذیت کو آپکی گود میں سر رکھ کے آپ سے ہی کہتا ہو۔اور آپ فقط اسے تسلیوں دلاسوں کے کچھ نہ کرپائیں۔محبوب وہ بھی تو ہوتا جو صرف اک فون کال اک وائس نوٹ کی دوری پہ ہو۔مگر آپ اسکی سماعت کے لئیے ماہی بے آب  کی طرح تڑپے ہوں۔صرف بےوفا ہی محبوب نہیں ہوتے۔محبوب کی بڑی قسمیں ہیں۔اور ہم تو آج تک یہ کہنے کی جرات نہیں کرپائے کہ حضرت اپنا کشکول خالی رہ جائے تو دوسرے کا بھر دینا چاہئیے ۔کہیں کوئی یہ ہی نہ سمجھ بیٹھے کہ در پردہ ہم محبت کی بھیک مانگ بیٹھے ہیں۔ہماری تحریر کو ہماری ذات پہ لاگو نہ کیا کریں۔یہ آپکی بھی داستان ہوسکتی ہے۔ عشق "صوفی" ہے نہ "مفتی" ہے نہ "عالم" ہے عشق "ظالم" ہے فقط "ظالم" ہے بہت "ظالم" ہے ایمی #êmšããlãhmêd #Emmi #نگاہ_شوق
Sadness 

                

"اداسی"                         

ہماری تحریر کو پڑھنے والے اکثر ہمیں اداس کہتے ہیں.. 

انھیں لگتا ہے کہ ہمیں پیار میں ناکامی ہوئی .. 

اک بات یہ کہ ہر تلخ شخص ضروری نہیں کہ پیار سے ہارا ہو ...یہ جو 

زندگی ہوتی ہے ناں کئی بار ایسے رنگ دکھا جاتی ہے کہ انسان ہنسنا تو کیا 

جینا تک بھول جاتا ہے ۔۔

پیار میں ناکام ہوا شخص تو ایک وقت کے بعد آگے بڑھ جاتا ہے مگر 

جس انسان نے وقت کے ہاتھوں مار کھائی ہو اور روز کسی نئی امید /

منزل کی تلاش میں ہو وہ بہت مشکل سے آگے بڑھتا ہے 

تو ہر شخص کو عشق نے مات نہیں دی ہوتی کچھ لوگ وقت اور 

حالات کے بھی ستا ئے ہوتے ہیں۔کل کسی نے پوچھا تو پھر آپکی ہر 

تحریر میں محبوب کا ہونا لازم ہوتا ہے? تو میں کہنا چاہتی ہوں ۔

محبوب تو محبوب ہوتا ۔ضروری نہیں جس نے عشق میں آپکو دھوکہ دیا 

ہو بے وفائی کی ہو وہی محبوب ہوتا۔یا انسان بس اس بے وفا کی یاد 

میں ہی تڑپ سکتا اور لکھ سکتا ہے۔محبوب شوہر بھی تو ہوسکتا ہے, 

محبوب ہمارا دوست بھی تو ہوسکتا ہے, محبوب کوئی اجنبی مسافر بھی 

تو ہوسکتا ہے, وہ بھی تو محبوب ہوسکتا ہے نا جسے اک نظر دیکھا ہو اور 

پھر زندگی میں دوسری بار دیکھنے کی نصیب نے اجازت چھین لی ہو? 

 محبوب وہ بھی تو ہوسکتا ہے نا جسے آپ بے تحاشا چاہتے ہوں, جس پہ 

آپ جان وارتے ہوں, لیکن اسے اک میسج کرنے کی آپ میں ہمت 

نہ ہو, کہ وہ آپکا میسج دیکھے گا ہی نہیں, دیکھے گا تو نظر انداز کرے گا۔

محبوب وہ بھی تو ہوسکتا نا جس کے لئیے آپ اذیت کی آخری حد تک 

جئیے ہوں۔مگر اسے بتا نہ سکے ہوں کہ مجھے آپ سے عشق ہے, صرف 

اس لئیے کہ آپ محبوب پہ اسکی عزت اسکی ذات پہ حرف نہ آنے دینا 

چاہتے ہوں۔آپ نے اذیتیں سہہ کے اسکی سکھ کی اسکی خوشی کی دعا 

کی ہو۔محبوب وہ بھی تو ہوسکتا جو دن رات آپکے ہی سامنے اپنے 

محبوب کے قصیدے پڑھتا ہو, جو آپکے کندھے پہ سر رکھ کے کسی اور 

کے لئیے روتا ہو, جو جب اذیت میں ہو تو وہ اس اذیت کو آپکی گود میں 

سر رکھ کے آپ سے ہی کہتا ہو۔اور آپ فقط اسے تسلیوں دلاسوں 

کے کچھ نہ کرپائیں۔محبوب وہ بھی تو ہوتا جو صرف اک فون کال اک 

وائس نوٹ کی دوری پہ ہو۔مگر آپ اسکی سماعت کے لئیے ماہی بے 

آب کی طرح تڑپے ہوں۔صرف بےوفا ہی محبوب نہیں ہوتے۔

محبوب کی بڑی قسمیں ہیں۔اور ہم تو آج تک یہ کہنے کی جرات نہیں 

کرپائے کہ حضرت اپنا کشکول خالی رہ جائے تو دوسرے کا بھر دینا 

چاہئیے ۔کہیں کوئی یہ ہی نہ سمجھ بیٹھے کہ در پردہ ہم محبت کی بھیک مانگ 

بیٹھے ہیں۔ہماری تحریر کو ہماری ذات پہ لاگو نہ کیا کریں۔یہ آپکی بھی 

داستان ہوسکتی ہے۔

عشق "صوفی" ہے نہ "مفتی" ہے نہ "عالم" ہے

عشق "ظالم" ہے فقط "ظالم" ہے بہت "ظالم" ہے


ایمی


   
Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
Search results