![]() |
| Sherry Khan |
میں چاہتی ہوں تجھ پہ لکھوں کچھ
میں چاہتی ہوں میں تجھ پہ کوئی تحریر لکھوں,
کوئی غزل, کوئی نظم لکھوں,
نہیں تو کوئی افسانہ تیری ذات پہ,
جو یہ ثابت کرے کہ ہاں تو عشق ہے میرا۔
میں چاہتی ہوں کہ کوئی ایسا درد ایسا نوحہ لکھوں
جسکی چیخیں تیرے دل کے در ودیوار ہلا دے,
میں چاہتی ہوں کوئی ایسا کلام لکھوں میرے یار تجھ پہ,
کہ پڑھنے والے تیری دید کو ترسیں,
میں چاہتی ہوں کہ کوئی ایسی نثر لکھوں تیرے عشق میں
کہ لوگ تڑپ اٹھیں اس شدت چاہ سے,
میں چاہتی ہوں کہ میں لکھوں تیری رت جگوں سے تر آنکھوں پہ,
میں لکھوں تیرے چہرے پہ رقم اذیت کے سارے بابوں پہ,
میں چاہتی ہوں میں لکھوں تصویر میں بھی بولتے تیرے درد پہ,
ہاں میں لکھنا چاہتی ہوں کہ تو ٹوٹا ہے جو کسی کی چاہ میں۔
تو کوئی ذات بکھری ہے تیری بھی راہ میں۔
جو تو ریزہ ریزہ ہے نا کسی کے پیار میں تو کوئی تڑپتا ہے
تیرے بھی انتظار میں۔
میں چاہتی ہوں کہ میں لکھو ں کہ جو تجھے تھی نا
محبت کسی سے تو تجھ سے بھی ہے عشق کسی کو۔
میں چاہتی ہوں کہ میں لکھوں کوئی داستان تم پہ ۔
جو امر کردے اس عشق کو اور تجھے یہ ثابت کرے کہ ہاں تو خاص ہے
کسی کے واسطے اتنا خاص ہے کہ تجھ پہ دیوان لکھوں میں۔
میں تجھے امر کروں اور دنیا رشک کرے تیری حیات پہ۔🥀
رخ یارپہ لکھ کوئی ایسا کلام اے دل
جو بھی پڑھے, تیری دید کو ترسے
ایمی

