Wo Ik Shab Teray Isheq Kay Naam

Wo Ik Shab Teray Isheq Kay Naam

1

                   

"وہ اک شب تیرے عشق کے نام" ضرباں تقسیماں کرکے  ساڈا کل اثاثہ تو ایں کل شب لکھتے لکھتے یونہی خیال آیا کہ_____  اک دن یونہی کبھی شام ڈھلے کہیں دور کسی وادی میں جو سر راہ وہ ٹکرا جائے, کئی پل ساکت ہوجائیں۔وقت کی رفتار تھم جائے, سانسوں کی ڈوری جہاں رکی وہی اٹکی رہ جائے, نظریں بے تابانہ تیرے طواف میں ڈوبیں, دل ہوکہ بے قرار حلق تک آجائے, کانپتی ٹانگوں, لرزتے ہاتھوں, روح جسم سے پرواز کرنے لگے۔۔۔۔۔ کہ وہ دھیرے سے مسکرا دے, تو باخدا جان میں جان آئے, ہر سو پھیلے اندھیرے میں جگنو سے جگمگا اٹھیں, اسکی ہنسی گہرے سکوت میں بانسری کی دھن بنے, وہ بولے تو  فضائیں رقص میں آجائیں, اسکی آواز میری سماعتوں میں رس گھولتی جلترنگ, اسکا وجود لاعلاج مریض کی شفاء ہو جیسے, اسکی نظریں تڑپتے دل پہ شفاء بھرے لمس جیسی ہوں۔تو چند قدم بڑھے, اٹکتی رکتی سانسوں کا شور اس ویران وادی میں ارتعاش بھردے, میرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہو تو لگے میرا وجود خوشبو بن کے فضاؤں میں بکھر جائے, کہیں کسی بہتی ندی کے کنارے جو تو کسی پتھر پہ بیٹھے ندی کے شفاف پانی میں جھانکے, میں تیری اس شفاف پانی میں چمکتی صورت کے صدقے کئی دشمن معاف کروں, دور آسمان پہ چمکتے چودھویں کے چاند کی پڑتی دودھیا روشنی میں تیرے مسکراتے لبوں پہ جان واروں, جو تو کہیں ندی کنارے سر سبز گھاس پہ لیٹے میری گودمیں سررکھے, میں بے اختیار تیرے سلیقے سے سجے بالوں کو بکھیروں, تیری بالوں میں چلتی میری انگلیاں ہوں, تیری بند آنکھوں کو چومتے میرے بے قرار لب ہوں, وادی کے بیچ سے گزرتی چارکول کی لمبی سڑک پہ تیرا ہاتھ تھامے دور تک چلوں,سڑک کنارے لگے اونچےگھنے درختوں میں سے جھانکتی چاندنی میں تیرے چہرے کو تکتے تیرے ہزار ہا صدقے اتاروں, دور کہیں عابدہ پروین کی آواز گونجے ۔۔۔ تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا اب مجھے ہوش کی دنیا میں  تماشا نہ بنا میرے پاگل پن کو تکتے دھیرے سے مسکراتا سر کو دائیں بائیں ہلائے, میں رب سے دعا کروں وقت تھمے میں اک پل میں صدیوں جی لوں۔۔۔میں قدم بڑھاتی تیرے روبرو تیری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کوئی گستاخی سرزد ہوتی, میرے سیل فون کی بیل بجی اور میں ہوش کی دنیا میں لوٹی سیل فون پہ چمکتا تیرے نام کا میسج اور بے اختیار میرے مسکراتے لب کہہ اٹھے, ہاں وہ اک شب تیرے عشق کے نام۔۔۔۔۔۔❤️ اے مصنف !!!!! کہانی کے زرا اختتام سے پہلے اسے اک بار میرا لکھنا  "صرف میرا" ایمی
Life Line

                          "وہ اک شب تیرے عشق کے نام".                                      

    ضرباں تقسیماں کرکے
 
ساڈا کل اثاثہ تو ایں

کل شب لکھتے لکھتے یونہی خیال آیا کہ_____

 اک دن یونہی کبھی شام ڈھلے کہیں دور کسی وادی میں جو سر

 راہ وہ ٹکرا جائے, کئی پل ساکت ہوجائیں۔وقت کی رفتار تھم

 جائے, سانسوں کی ڈوری جہاں رکی وہی اٹکی رہ جائے,

 نظریں بے تابانہ تیرے طواف میں ڈوبیں, دل ہوکہ بے قرار

 حلق تک آجائے, کانپتی ٹانگوں, لرزتے ہاتھوں, روح جسم 

سے پرواز کرنے لگے۔۔۔

کہ وہ دھیرے سے مسکرا دے, تو باخدا جان میں جان آئے, ہر

 سو پھیلے اندھیرے میں جگنو سے جگمگا اٹھیں, اسکی ہنسی

 گہرے سکوت میں بانسری کی دھن بنے, وہ بولے تو فضائیں 

رقص میں آجائیں, اسکی آواز میری سماعتوں میں رس گھولتی

 جلترنگ, اسکا وجود لاعلاج مریض کی شفاء ہو جیسے, اسکی 

نظریں تڑپتے دل پہ شفاء بھرے لمس جیسی ہوں۔تو چند قدم 

 بڑھے, اٹکتی رکتی سانسوں کا شور اس ویران وادی میں 

ارتعاش بھردے, میرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہو تو لگے میرا وجود

 خوشبو بن کے فضاؤں میں بکھر جائے, کہیں کسی بہتی ندی 

کے کنارے جو تو کسی پتھر پہ بیٹھے ندی کے شفاف پانی میں

 جھانکے, میں تیری اس شفاف پانی میں چمکتی صورت کے 

صدقے کئی دشمن معاف کروں, دور آسمان پہ چمکتے چودھویں

 کے چاند کی پڑتی دودھیا روشنی میں تیرے مسکراتے لبوں پہ 

جان واروں, جو تو کہیں ندی کنارے سر سبز گھاس پہ لیٹے

 میری گودمیں سررکھے, میں بے اختیار تیرے سلیقے سے سجے 

بالوں کو بکھیروں, تیری بالوں میں چلتی میری انگلیاں ہوں,

 تیری بند آنکھوں کو چومتے میرے بے قرار لب ہوں, وادی 

کے بیچ سے گزرتی چارکول کی لمبی سڑک پہ تیرا ہاتھ تھامے دور

 تک چلوں,سڑک کنارے لگے اونچےگھنے درختوں میں سے

 جھانکتی چاندنی میں تیرے چہرے کو تکتے تیرے ہزار ہا صدقے 

اتاروں, دور کہیں عابدہ پروین کی آواز گونجے ۔۔۔


تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا

اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا

میرے پاگل پن کو تکتے دھیرے سے مسکراتا سر کو دائیں بائیں 

ہلائے, میں رب سے دعا کروں وقت تھمے میں اک پل میں

 صدیوں جی لوں۔۔۔میں قدم بڑھاتی تیرے روبرو تیری 

آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کوئی گستاخی سرزد ہوتی, میرے 

سیل فون کی بیل بجی اور میں ہوش کی دنیا میں لوٹی سیل فون 

پہ چمکتا تیرے نام کا میسج اور بے اختیار میرے مسکراتے لب 

کہہ اٹھے, ہاں وہ اک شب تیرے عشق کے نام۔۔۔۔۔۔

!!!!!❤اے مصنف

کہانی کے زرا اختتام سے پہلے

اسے اک بار میرا لکھنا 

"صرف میرا"

ایمی 

Tags

Post a Comment

1Comments
Post a Comment
Search results