محبوب خوشبوؤں کا سمفنی ہے
یہ جو سردی, گرمی, خزاں اور بہار کے موسم ہیں نا? سارے ہی آپکے دم سے آباد ہیں سائیں۔سردیوں کی یخ بستہ راتیں ہوں یا جون کی تپتی دوپہریں ہوں, خزاں کے موسم میں گرتے زرد پتے ہوں,یا بہار رت میں کھلتے رنگوں بھرے پھول ہوں۔سب میں اک چیز مشترک ہے۔اور وہ ہے آپکا احساس سائیں۔آپکا احساس آپکا تصور,ان موسموں کو,ان رنگوں کو مزید دلکشی بخشتا ہے۔ہمیں کسی نے کہا کہ تحریر میں سے محبوب نکال کے لکھو۔
تو لکھنا تو بعد کی بات ہےسائیں, آپکے تصور کے بنا تو یہ زندگی ہی اندھیر نگری ہے۔اس زندگی کے سارے رنگ تو آپکے تصور سے جڑے ہیں سائیں۔اگر اس زندگی سے, ان سوچوں, خیالوں سے, ان موسموں سے آپکا خیال نکال دیا جائے, تو سارے منظر بے رنگ ہوجاتے ہیں۔ساری حیات بے رونق ہے۔ہمیں دسمبر کی یخ بستہ راتیں, اور جون کی تپتی دوپہریں اس لئیے بھی پسند ہیں سائیں ۔ کہ یہ طویل ترین ہوتی ہیں۔اور ان طویل ترین لمحوں میں تنہائی ہوتی ہے۔نیم تاریکی میں پھیلی سائیں ظہور کی آواز میں بلھے شاہ کی کافی کا سوز ہوتا ہے۔اور اس تنہائی کے لمحوں میں گونجتے دلسوز ساز میں ہمارے روبرو آپکا تصور ہوتا ہے۔ اور ان لمحوں میں ہم اس قدر سرمست ہوکے آپ کے تصور سے ہم کلام ہوتے ہیں۔آپکے تصور کے سنگ یوں جھومتے ہیں کہ بلھے شاہ کی کافی بھی لفظوں سے نکل کر جھومنے لگتی ہے۔
عشق بُلّھے نوں نچاوے یاااااار تے نچنا پیندا اے
سامنے ہووے یار __________ تے نچنا پیندا اے
اور ان لمحوں میں دنیا جہاں کی کوئی خبر نہیں, یہاں تک کہ اپنا سایہ بھی ہم برداشت نہیں کرتے۔آپکی ذات ہمارے لئیے ان تمام قیمتی اور پاکیزہ خوشبوؤں کا مجموعہ ہے سائیں,جنکی خوشبو سانسوں کو معطر کردیتی ہے۔ہم سوچتے ہیں آپکو کس خوشبو سے تشبیہ دیں سائیں۔جو ہمارے عشق کی نس نس میں اک سرور بھردے۔محبت کی خوشبو کے دائرے میں، محبوب خوشبوؤں کا سمفنی ہے۔عود کی طرح آپکے تصور کی موجودگی تنہائی کو تقدس کے احساس سے بھر دیتی ہے۔آپکا لمس روح کو صندل کی خوشبو کی طرح سکون بخشتا ہے۔کستوری کی خوشبو کی طرح دل پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ امبر کی طرح انگ انگ میں عشق آتش بھردیتا ہے۔آپکی زلفوں کی مہک اک طرف سائیں۔ اور لوبان کی خوشبو اک طرف۔
تیری زلفوں کی مہک اک طرف
صندل ,لوبان سارے اک طرف
تیرے گاؤں کا دلکشی اک طرف
مشہد تہران سارے اک طرف
آپکے وجود سے ٹپکتے پسینے کے قطرے قطرے کی مہک اک طرف ,اور کستوری کی خوشبو اک طرف۔لیکن سائیں ہم آپکے قدموں کی خاک, آپکی اک ادا پہ قربان, آپکی اک مسکراہٹ پہ دل وجان نثار سائیں,آپ کے پیروں کی خاک اٹھا کے آنکھوں میں لگائیں,ہم آپکے پیروں کی دھول سائیں۔امبر, صندل, لوبان, کستوری سب اک طرف, اور آپکے وجود سے اٹھتی خوشبو اور اس خوشبو سے مہکتی ہماری تنہائی, ہمارا انگ انگ اک طرف۔دنیا کی مہنگی ترین خوشبو Shumukh اک طرف سائیں اور آپکے وجود کی مہک اک طرف۔قیمتیں بڑھنے سے کیا فرق پڑتا ہے سائیں۔۔ہم تو آپکے وجود کو مشک جیسی خوشبو سے تشبیہ دیتے ہیں سائیں۔جو ہمارے کریم آقا حضوؐر کی پسندید خوشبو ہے جو جنت کی خوشبو ہے سائیں۔آپکا وجود ہمارے لئیے عود, مشک سے بھی مہنگا ہے سائیں۔ اتنا مہنگا کہ اتنا خاص کے سر آپکے قدموں میں اور دل آپکا مرہد سائیں۔میں میں نہی بس تو ہی تو سائیں ,بس تو ہی تو
مِرے پاس نہ ایسی آنکھیں ہیں
تُو جن میں ڈوب کے دیکھ سکے
مِرے پاس نہ ایسی صورت ہے
جسے دیکھ کے تجھ کو پیار آئے
تو ایک کہانی ہے خود میں
میں بس اک لفظ اضافی ہوں
تُو اردو عشق آباد کی ہے
میں بلھے شاہ کی کافی ہوں
جس خاک پہ تیرے سجدے ہیں
اُس خاکِ شفا کی خیر رہے
یہ دنیا جسم کی بھوکی ہے
ترے رنگِ حیا کی خیر رہے
تری آنکھوں کی حیرانی کو
کوئی دشمن بخت نہ جان سکے
چل تُو نہ مجھے پہچان سکا
کوئی ہو جو تجھے پہچان سکے
ترے دل میں نہ ایسی ٹیس اُٹھے
جو پِیڑ کلیجہ چیرتی ہے
ترے نین نہ بین کریں شالا
ترا رنگ سدا آباد رہے !
اس یاد کی تیز اذیت میں
اک ہاتھ سے دل تھاما ہے !
اک ہاتھ دئیے کی لَو پر ہے
اور دیوانے کی آنکھوں سے
کچھ لفظ بکھرتے جاتے ہیں
کچھ اشک جو کہتے جاتے ہیں
مِرے پاس نہ ایسی آنکھیں تھیں
مِرے پاس نہ ایسی صورت تھی !!
مِرے پاس تو بس اک تُو ہی تھا
مِرے پاس تُو بس اک تُو ہی ہے !🥀✍️❤️
ازقلم:ایمثال احمد ایمی

